وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی ٹی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات، مالی معاونت کی لاگت میں کمی اور تجارت کے فروغ پر تبادلۂ خیال

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کی جگہ طویل مدت کی مالی معاونت حاصل کرنے، پاکستان کی برآمدات کو عالمی منڈیوں میں مزید مسابقتی بنانے اور تجارتی روابط کو وسعت دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کوبنکاک میں عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے …

بنکاک۔15اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کی جگہ طویل مدت کی مالی معاونت حاصل کرنے، پاکستان کی برآمدات کو عالمی منڈیوں میں مزید مسابقتی بنانے اور تجارتی روابط کو وسعت دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کوبنکاک میں عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر ادیب وائی العما سے ملاقات میں کیا۔

ملاقات میں پاکستان کے لیے مالی معاونت، قرضوں کی لاگت میں کمی، برآمدات کے فروغ اور تجارتی سہولتوں کو بہتر بنانے سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی معاشی پیش رفت، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر پاکستان کے لیے مالی معاونت کی بقیہ قسط کا جائزہ لیا گیا جبکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بہتری کے تناظر میں قرض پر عائد لاگت کم کرنے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں اداروں کی تکنیکی ٹیمیں مالی معاونت کی شرائط اور حجم میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لیں گی تاکہ باہمی طور پر قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے اور پاکستان کے لیے مالی معاونت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

وزیرِ خزانہ نے بیرونی قرضوں کے مجموعی حجم میں اضافہ کیے بغیر مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کی جگہ طویل مدت کی مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے اس ضمن میں مالی وسائل کے بہتر انتظام اور نسبتاً موزوں شرائط پر فنڈنگ کے حصول کی اہمیت اجاگر کی۔ملاقات میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو یورپی یونین کی منڈیوں میں معاونت فراہم کرنے کے لیے مصنوعات کے ڈیجیٹل پاسپورٹ متعارف کرانے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس کے علاوہ آسیان ممالک کے ساتھ تجارت کو آسان بنانے کے لیے سنگل ونڈو نظام کو باہم مربوط کرنے کے معاملے پر گفتگو ہوئی، جس کا مقصد تجارتی طریقۂ کار کو سہل بنانا اور سرحد پار تجارت میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے طویل مدتی شراکت داری برقرار رکھنے اور پاکستان کی برآمدات کو عالمی منڈیوں میں مزید مسابقتی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔