وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی مجبوری میں لگائی گئی، صوبائی حکومت لانگ اور شارٹ مارچ کرتی رہی لیکن عوامی فلاح و بہبود پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام بہادر، جفاکش، …
پی ٹی آئی کی حکومت 13 سال میں خیبرپختونخوا کو ماڈل صوبہ بنا سکتی تھی، سردار محمد یوسف

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی مجبوری میں لگائی گئی، صوبائی حکومت لانگ اور شارٹ مارچ کرتی رہی لیکن عوامی فلاح و بہبود پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام بہادر، جفاکش، محنتی اور محب وطن ہیں ۔ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ملکی دفاع اور عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 2013ء میں قائم ہونے والی حکومت کا رویہ اور کارکردگی مایوس کن رہی، صوبے کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے، صرف ایک شخص کی خوشامد کی گئی۔ انہوں نے اپنی حکومت اور صوبے کے عوام پر خودکش حملہ کیا ہے۔
نیا پاکستان بنانے والے نیا صوبہ تو نہیں بنا سکے لیکن پرانے صوبے کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا، انہوں نے صرف لانگ مارچ اور شارٹ مارچ کئے، صوبے کے وزیراعلیٰ نے اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی ۔13 سال ان کی حکومت رہی، وہ اسے ماڈل صوبہ بنا سکتے تھے، ان کی ترجیحات مختلف تھیں، صوبہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی مجبوری میں لگائی گئی۔








