دہشت گردی کے معاملے پر دوہری پالیسی نہیں اپنائی جا سکتی،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یکساں موقف اختیار کرنا ہوگا، وزیر داخلہ محسن نقوی کاپارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

دہشت گردی کے معاملے پر دوہری پالیسی نہیں اپنائی جا سکتی،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یکساں موقف اختیار کرنا ہوگا، وزیر داخلہ محسن نقوی کاپارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ سیدمحسن نقوی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کویکساں موقف اختیار کرنا ہوگا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ تاہم دہشت گردی کے معاملے پر دوہری پالیسی نہیں اپنائی جاسکتی، وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ باہمی مشاورت سے حل کرنے کی آخری وقت تک کوشش کی تاہم مذاکرات میں اتفاق نہ ہوسکا،حکومت مذاکرات پریقین رکھتی ہے تاہم اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کو فیصلے کرنے کا اختیار اور ان فیصلوں پر قائم رہنے کی اجازت ہونی چاہئے،مذاکرات کوناکام بنانے والوں نے صورتحال کواس نہج پرپہنچایا ۔

جمعرات کوپارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوامیں گورنرراج اورہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق بحث کوسمیٹتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہاکہ وہ اپوزیشن کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے جواب میں چند اہم حقائق واضح کرنا چاہتے ہیں ،حکومت نہیں چاہتی تھی کہ حالات اس نہج تک پہنچیں تاہم موجودہ صورت حال اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ گزشتہ کئی ماہ سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور سیاسی اتفاق رائے کے لیے کوششیں جاری تھیں۔وزیرداخلہ نے رواں سال فروری میں پشاور میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں انہوں نے اور کور کمانڈر پشاور نے شرکت کی تھی جبکہ اجلاس کی میزبانی وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کی، اجلاس بلانے کے لیے بھی طویل کوششیں کرنا پڑی تھیں، کیونکہ حکومت چاہتی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے اور تمام متعلقہ فریق ایک متفقہ موقف اختیار کریں، اجلاس کے بعد جاری ہونے والی پریس ریلیز کا مقصد بھی یہی تھا کہ تمام فریق مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔

وزیرداخلہ نے کہاکہ اسی روز سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے اور اجلاس کے دوران ہی اس کی اطلاع موصول ہوئی، بار بار درخواست کرنے کے بعد وزیراعلی خیبر پختونخوا کو شہداء کے جنازوں میں شرکت کے لیے لے جایا گیا ، یہ آخری موقع تھا جب وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کسی فوجی افسر یا اہلکار کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن کے متعدد ارکان نے دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اختیار کیا تھا اور اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ یہ جنگ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے لیے نہیں پاکستان کے لیے لڑی جائے گی، اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ موقف کی حمایت اور متعلقہ دستاویزات پر دستخط کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی تاہم انہوں نے اسد قیصر سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی صوبائی حکومت کو بھی اس موقف پر قائل کریں کیونکہ صوبائی حکومت کے طرز عمل اور ان کے بیان میں فرق تھا۔

وزیرداخلہ نے کہاکہ مذاکرات میں شریک ارکان دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حامی تھے اور انہیں اس حوالے سے بات چیت کا مکمل اختیار دیا گیا تھا، ضرورت پڑنے پر اس ضمن میں شواہد بھی پیش کیے جاسکتے ہیں۔ محسن نقوی نے صوبائی حکومت کے مشیراطلاعات کے انٹرویوکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ٹی وی پروگرام میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مذمت کرنے کے لیے ان سے تین بار کہا گیا، لیکن انہوں نے مذمت نہیں کی ۔ معاملہ محض بیانات تک محدود نہیں تھا بلکہ دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات اور صوبائی حکومت کے تعاون کا بھی سوال تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت صوبائی انتظامیہ سے مسلسل یہی کہتی رہی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت خود قیادت کرے، کیونکہ یہ اس کی ذمہ داری ہے جبکہ فوج، فرنٹیئر کور اور دیگر سکیورٹی اداروں کو معاونت فراہم کرنا تھی تاہم صوبائی حکومت قیادت اور ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا سے ان کی متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور باہمی مشاورت سے پانچ اضلاع میں پولیس کو مضبوط بنانے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت چھ ماہ کے دوران سول آرمڈ فورسز کو پیچھے ہٹاکر پولیس کو آگے لانا تھا، اس پر عمل درآمد میں پیش آنے والی رکاوٹیں ایک الگ بحث ہیں، ایک طرف سکیورٹی اہلکار شہید ہورہے تھے اور دوسری طرف وزیراعلی کی جانب سے انہی اہلکاروں کے خلاف تقاریر کی جارہی تھیں۔وزیرداخلہ نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے کوششیں صرف حالیہ دنوں میں شروع نہیں ہوئی تھیں بلکہ اگست اور ستمبر سے پہلے بھی مختلف سطحوں پر رابطے جاری تھے، وزیراعظم کے دورے سے قبل اپوزیشن رہنمائوں کی وزیراعظم سے ملاقات کرانے کی کوشش بھی کی گئی تاہم یہ ممکن نہ ہوسکی۔

بعدازاں صدر مملکت، وزیراعظم اور بلاول بھٹوکی جانب سے مذاکرات پر زور دیئے جانے کے بعد بات چیت کا عمل آگے بڑھایا گیا، مذاکرات کے دوران آخری وقت تک کوششیں جاری رہیں اور متعلقہ فریق کو فون کرکے بھی معاملہ حل کرنے کی درخواست کی گئی۔مذاکرات کوناکام بنانے والوں نے صورتحال کواس نہج پرپہنچایا ،ان کی ذمہ داری ہم پرنہیں ڈالی جاسکتی ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت نے دہشت گردی کو بہانے کے طور پر استعمال کیا ، صوبائی حکومت کے طرز عمل اور عدم تعاون نے موجودہ صورت حال پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔محسن نقوی نے مذاکرات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وفد بات چیت چھوڑ کر نہیں گیا تھا بلکہ اپوزیشن کا وفد مسلسل ایک علیحدہ کمرے میں مشاورت کرتا رہا اور حکومتی ارکان گھنٹوں انتظار کرتے رہے۔

حکومت نے اپوزیشن کو فیصلے کے لیے نہ تو کوئی سخت وقت مقرر کیا اور نہ ہی مذاکرات ختم کرنے کی دھمکی دی۔ مذاکرات کے دوران اپوزیشن کے متعدد مطالبات تسلیم کیے گئے تھے اور اس حوالے سے دستاویز بھی موجود ہے ،اختلاف صرف آخری سطر پر تھا جس پر اتفاق نہ ہوسکا، ہمارےلئے آنا اوررابطہ کوئی مسئلہ نہیں تھا،خیبرپختونخوا کے مالی ایشوز کوحل کرنے کیلئے وزیراعلیٰ کولیکرمیں وزیراعظم کے پاس گیاتھا،ہماری آخری منٹ تک کوشش تھی کہ ہنگامی حالت کانفاذ نہ ہوں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا باربارکہتے رہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کے متحمل نہیں ہوسکتے اس لئے حقائق کومسخ نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے آخری وقت تک کوشش کی کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ باہمی مشاورت سے حل ہوجائے۔ مذاکرات ناکام ہونے کے آثار آخری 24 گھنٹوں میں نمایاں ہوئے تاہم آخری لمحے تک کوشش جاری رہی کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوبت نہ آئے۔

اسی لیے صوبائی حکومت کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ ان 12 اضلاع میں خود ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرے جس پر بظاہر اتفاق بھی ہوا تھا۔ وزیرداخلہ نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے موقف میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ ایک طرف وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کرے اور دوسری طرف صوبائی سطح پر مختلف موقف اختیار کیا جائے تو یہ قابل عمل نہیں۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اپنی صوبائی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کی نشاندہی کرے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرے۔محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے یہ موقف اختیار نہیں کیا کہ پاکستان تحریک انصاف دہشت گردی میں ملوث ہے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کو دہشت گردی سے منسوب کیا جانا چاہیے، حکومت کا اعتراض یہ رہا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مطلوبہ تعاون نہیں کررہی اور مقامی سطح پر بعض عناصر کے دہشت گردوں کے ساتھ رابطوں اور تعاون کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔

اگر مقامی سطح پر کسی کی دہشت گردوں سے معاونت یا رابطوں کے شواہد موجود ہیں تو ان معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔وزیرداخلہ نے کہاکہ سیاسی موقف میں اختلاف ہوسکتا ہے اور اپوزیشن اس فیصلے کی مخالفت بھی کرسکتی ہے، لیکن حقائق کو حقائق کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کرے اور حکومت یہ ذمہ داری پوری کرے گی۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مختلف معاملات پر بات چیت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ اپوزیشن اراکین کی صحت کے معاملہ پر ایک سال تک تفصیلی بات چیت ہوتی رہی اور ڈاکٹروں سے بریفنگز کا اہتمام کیا گیا تاکہ متعلقہ افراد کو مطمئن کیا جاسکے۔ جب بھی طبیعت میں معمولی خرابی کی اطلاع ملی، اسی رات ہسپتال میں طبی معائنے کا انتظام کیا گیا تاہم صحت کے معاملات کی نوعیت کے باعث یہ اقدامات ہمیشہ منظر عام پر نہیں آئے۔انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے علاج کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں بھی اہل خانہ سے مشاورت کی گئی اور ان کی تجاویز سے اتفاق کیا گیا۔

جب تمام معاملات طے ہوگئے تو مزید افراد کو ہسپتال لے جانے کی شرط سامنے آئی۔ حکومت نے ان افراد کو بھی لانے پر آمادگی ظاہر کی تاہم بعد میں موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب وہ خود آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کا سلسلہ چند ہفتے قبل بھی جاری تھا اور آئندہ بھی جاری رہ سکتا ہے، اس حوالے سے حکومت کو کوئی اعتراض نہیں۔ اصل مسئلہ مذاکرات کے لیے اختیار اور مینڈیٹ کا ہے، پاکستان تحریک انصاف کے عہدیدار اگر بااختیار ہوکر آئیں، اپنی قیادت کی جانب سے واضح مینڈیٹ لے کر مذاکرات کریں اور طے شدہ فیصلوں پر قائم رہیں تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے،مذاکرات کے بعد دوبارہ جیل جاکر بات کرنے کی شرط عائد کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ مذاکراتی ٹیم کو فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہو اور وہ ان فیصلوں پر قائم رہ سکے۔

محسن نقوی نے کہا کہ حکومت سیاسی مذاکرات کے لیے پہلے بھی تیار تھی اور اب بھی تیار ہے۔ وزیراعظم متعدد مرتبہ مذاکرات شروع کرنے پر زور دے چکے ہیں جبکہ اپوزیشن کے ساتھ طے پانے والی دستاویز میں بھی سیاسی مکالمے کے آغاز کو اولین ترجیح دی گئی تھی، مذاکراتی دستاویز کا پہلا نکتہ وزیراعظم اور اپوزیشن رہنمائوں کی ملاقات تھا تاکہ سیاسی مکالمے کا آغاز کیا جاسکے جبکہ دوسرا نکتہ تمام امور پر بات چیت کے لیے ایک سیاسی کمیٹی کی تشکیل تھا، دستاویز میں متعلقہ افراد کے قانونی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا جس میں علاج معالجے، ملاقاتوں اور دیگر قانونی سہولیات کے علاوہ معمر اور بیمار قیدیوں کی سزائوں کے خلاف درخواستیں دائر کرنے کے امور شامل تھے۔

وزیرداخلہ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد بھی مذاکراتی نکات میں شامل تھا۔ یہ نیشنل ایکشن پلان دوم تھا جس کی منظوری سابقہ حکومت کے دور میں تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے دی گئی تھی تمام جماعتوں نے اس منصوبے پر اتفاق کیا تھا، اس لیے حکومت سے باہر ہونے کی وجہ سے کسی کو اس سے لاتعلق نہیں ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ حالات پرکوئی خوش نہیں ہے، یہ انتہائی مجبوری میں اٹھائے گئے اقدامات ہیں، دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے جنازے اٹھانا انتہائی تکلیف دہ ہے،میں خود کراچی یا کسی دوسرے شہر میں موجود ہونے کے باوجود پشاور میں شہدا; کے جنازوں میں شرکت کے لیے پہنچ جاتاتھاتاہم صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ وہاں موجود نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا موقف سب کے سامنے تھا لیکن صوبائی حکومت کا نقط نظر مختلف تھا اور بعض عناصر کے کردار کے باعث معاملات اس مقام تک پہنچے ہیں۔