وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام کے بعد اب سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی ونموکی جانب بڑھ رہا ہے، حکومت بیرونی قرضوں کے بہتر انتظام، ٹیکس اصلاحات، نجکاری اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے معیشت کی بنیادیں مضبوط بنا رہی ہے۔
پاکستان کی معیشت مستحکم ہے، ترقی کا محور سرمایہ کاری اور برآمدات ہوں گی، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی اٹلانٹک کونسل میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام کے بعد اب سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی ونموکی جانب بڑھ رہا ہے، حکومت بیرونی قرضوں کے بہتر انتظام، ٹیکس اصلاحات، نجکاری اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے معیشت کی بنیادیں مضبوط بنا رہی ہے۔
جمعرات کوبنکاک میں اٹلانٹک کونسل میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ مالی سال 2027 ءمیں اس کے تقریبا 4 فیصد رہنے کی توقع ہے، صنعتی اور زرعی شعبوں میں بحالی معاشی نمو میں مددمل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد محض معاشی استحکام برقرار رکھنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار ترقی حاصل کرنا ہے جس کی بنیاد صرف کھپت میں اضافے پر نہ ہو بلکہ سرمایہ کاری اور برآمدات پر ہو، اس حکمت عملی کے تحت پیداواری صلاحیت بڑھانے، نجی شعبے کی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان عالمی مالیاتی مباحث میں بھی اپنا کردار مضبوط بنا رہا ہے۔ پاکستان قرض لینے والے ممالک کے پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی صدارت کر رہا ہے اور یکم نومبر سے جی 24 کی صدارت بھی سنبھالے گا، جس سے عالمی مالیاتی نظام اور ترقی پذیر معیشتوں کو درپیش مسائل پر پاکستان کی آواز موثر بنانے میں مدد ملے گی۔ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ دو مالی سال کے دوران ٹیکس محصولات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریبا 10.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ٹیکس نظام کو بہتر بنانے، محصولات میں اضافے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں کی نجکاری اور خدمات کے شعبوں میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے پر بھی کام کر رہی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ہوائی اڈوں کو آٹ سورس کرنے کے اقدامات کے ساتھ نجی شعبے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔سماجی تحفظ کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ کمزور اور مستحق گھرانوں کو ہدفی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ روزگار کے مواقع، تعلیم اور مہارتوں کی ترقی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ معاشی ترقی کے ثمرات وسیع تر آبادی تک پہنچ سکیں۔
بیرونی مالی وسائل کے حصول اور قرضوں کے انتظام پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے پانڈا بانڈ جاری کرکے چینی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی حاصل کی ہے اور یورو بانڈ مارکیٹ میں بھی واپسی کی ہے۔ حکومت فنانسنگ کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کم، قرضوں کی مدت میں اضافہ اور بیرونی قرضوں کا انتظام زیادہ پائیدار بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں کا تقریبا 40 فیصد کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ طویل مدتی اور رعایتی قرضوں پر مشتمل ہے جبکہ دوطرفہ شراکت داروں کی معاونت بھی اہم ہے۔ حکومت بیرونی قرضوں کے مجموعی حجم میں اضافہ کیے بغیر مہنگے قرضوں کی ادائیگی اور قلیل مدتی واجبات کو طویل مدتی فنانسنگ میں تبدیل کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے جس سے قرضوں کی ادائیگی کے دبا میں کمی اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالیاتی شمولیت، مصنوعی ذہانت کے استعمال اور جدید ٹیکنالوجی میں مہارتوں کے فروغ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد خدمات کی فراہمی کو تیز، کم لاگت اور شفاف بنانے کے ساتھ شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے معاشی مواقع بڑھانا ہے رمضان ریلیف پیکیج کی تقسیم میں ڈیجیٹل والٹس کے استعمال اور بی آئی ایس پی کے تحت مستحق افراد کو براہ راست رقوم کی منتقلی سے امدادی نظام میں شفافیت بہتر بنانے اور مالی وسائل کے ضیاع کو کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ ہدفی سبسڈیز اور سرکاری خدمات کی فراہمی میں بھی ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دی جا رہی ہے۔
علی بابا کے ساتھ تعاون کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نوجوانوں اور فری لانسرز کی مہارتوں میں اضافے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز میں تربیت کے مواقع بڑھانا چاہتا ہے۔ ویب 3.0 اور بلاک چین جیسی ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کرنے سے پاکستانی نوجوانوں کی عالمی ڈیجیٹل معیشت میں شرکت اور آمدنی کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی مجموعی حکمت عملی معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا، برآمدات کو فروغ دینا اور عوام کو معاشی ترقی کے ثمرات سے مستفید کرنا ہے۔








