خیبرپختونخوا میں گورنر راج اورایمرجنسی کے نفاذ میں آئینی طریقہ کار پر عمل کیا گیاہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے کہا ہے کہ آئین میں اس کا طریقۂ کار واضح طور پر درج ہے اور حکومت نے اس پر عمل کیا ہے، حکومت نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے کی کوشش کی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کا تعاون بھی طلب کیا۔

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے کہا ہے کہ آئین میں اس کا طریقۂ کار واضح طور پر درج ہے اور حکومت نے اس پر عمل کیا ہے، حکومت نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے کی کوشش کی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کا تعاون بھی طلب کیا۔جمعرات کوپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 232 مخصوص حالات میں صدر مملکت کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

آرٹیکل 232 کی شق (1) کے دوسرے Proviso کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر صدر مملکت اپنی صوابدید پر ایمرجنسی کا اعلان کریں تو اس کی منظوری کے لیے 10 روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں درج مطلوبہ طریقۂ کار پر عمل کیا گیا ہے۔اسحاق ڈار نے آرٹیکل 234 کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت جاری کیا جانے والا اعلان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنا ضروری ہے اور یہ دو ماہ تک نافذ العمل رہ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اس اعلان کی مدت میں مزید دو، دو ماہ کی توسیع کر سکتا ہے تاہم اس کا مجموعی نفاذ چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔آرٹیکلز 148 اور 149 کا حوالہ دیتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ آئین کے تحت وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیرونی جارحیت اور اندرونی خلفشار کے خلاف صوبوں کا تحفظ کرے۔

آئین وفاقی حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ امن و امان، عوامی نظم و ضبط یا ملک کی معیشت کو سنگین خطرے سے بچانے کے لیے ہدایات جاری کرے۔انہوں نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے آئینی دفعات کی غلط تشریح سے گریز کریں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے کی کوشش کی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کا تعاون بھی طلب کیا۔انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران وزیراعظم اور اپوزیشن رہنمائوں کی ملاقات، تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل سیاسی کمیٹی کے قیام اور قیدیوں کے قانونی حقوق اور طبی سہولیات تک رسائی یقینی بنانے کے لیے اقدامات سمیت مختلف تجاویز پیش کی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے صورت حال پر تفصیلی غور کیا تھا اور کوئی بھی ایمرجنسی نافذ نہیں کرنا چاہتا تھا تاہم مفاہمت کے لیے کی جانے والی کوششیں ناکام ہونے کے بعد حکومت نے ان اقدامات کو ضروری سمجھا۔نائب وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں سے اضافی ایک فیصد حصہ دیا گیا جس کی مالیت ان کے تخمینے کے مطابق مالی سال 2010-11 سے اب تک تقریباً 800 ارب روپے بنتی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا صوبائی حکومت نے ان وسائل کے ذریعے دہشت گردی سے نمٹنے اور فرانزک تحقیقات کی مناسب صلاحیتیں پیدا کی ہیں یا نہیں۔نائب وزیراعظم نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مفاہمت کی جانب پیش رفت سے قبل سکیورٹی کے چیلنج سے نمٹنا ضروری ہے۔