وزیر خزانہ محمداورنگزیب کی فچ ریٹنگز اور کینیڈین حکام سے ملاقاتیں، معاشی استحکام، سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون پر تبادلہ خیال
وزیر خزانہ محمداورنگزیب کی فچ ریٹنگز اور کینیڈین حکام سے ملاقاتیں، معاشی استحکام، سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
بنکاک ۔16اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور برآمدات پر مبنی پائیدارنمو کے لیے اصلاحات پر عمل پیرا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، بیرونی مالیاتی تحفظات مضبوط بنانے اور عالمی کیپٹل مارکیٹوں تک رسائی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے یہ بات جمعہ کوبنکاک میں عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پرمختلف ملاقاتوں میں کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے فچ ریٹنگز کے نمائندوں اور کینیڈا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے بین الاقوامی ترقی رندیپ سرائے سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی کارکردگی، خودمختار کریڈٹ ریٹنگ، سرمایہ کاری، تجارت، کان کنی، زرعی ترقی، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے اسی موقع پر تھائی لینڈ کے وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگا سے بھی ملاقات کی۔فچ ریٹنگز کے نمائندوں سے ملاقات میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاکستان کی معاشی صورتحال اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ وزیر خزانہ نے عالمی کیپٹل مارکیٹس تک پاکستان کی رسائی، مالیاتی استحکام اور مسلسل بنیادی مالیاتی سرپلسز کو ملکی معیشت میں بہتری کے اہم اشاریے قرار دیا۔انہوں نے مہنگائی کے رجحانات، زری پالیسی، شرحِ مبادلہ کے استحکام اور جاری کھاتے کے محدود خسارے سے متعلق صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، مستقبل میں واجب الادا ادائیگیوں سے متعلق ذمہ داریوں میں کمی اور بیرونی مالیاتی تحفظات کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ان اقدامات سے پاکستان کی بیرونی معاشی دباو اور غیر متوقع حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔
پاکستانی وفد نے قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں بہتری، قرضوں پر سودی اخراجات میں کمی، قرض لینے کی مدت میں اضافے اور دوطرفہ قرضوں کی ادائیگیوں میں توسیع سے متعلق یقین دہانیوں پربھی روشنی ڈالی ۔ وفد نے آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل، ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل درآمد اور برآمدات پر مبنی ترقی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر خزانہ نے امریکہ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق روابط پر بھی تبادلہ خیال کیا اور فچ ریٹنگز کے نمائندوں سے پاکستان کو ڈبل بی کریڈٹ ریٹنگ کے درجے تک پہنچانے کے لیے درکار شرائط اور اقدامات کے بارے میں رائے طلب کی۔
کینیڈا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے بین الاقوامی ترقی رندیپ سرائے سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے پاکستان کیمعاشی استحکام کی جانب پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کینیڈین سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے پر پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا،ملاقات میں زراعت، زرعی ٹیکنالوجی، لائیو اسٹاک اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے نجی شعبے کی شمولیت کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔فریقین نے بیرک کے کان کنی کے منصوبے سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی، جن میں سکیورٹی جائزہ، مالیاتی انتظامات اور منصوبے کے ذریعے برآمدات اور روزگار میں اضافے کے ممکنہ امکانات شامل تھے۔وزیر خزانہ نے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان آئی ٹی خدمات، مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں اور ورچوئل اثاثوں کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے روابط کو فروغ دینے اور کینیڈا سے پاکستان ترسیلاتِ زر بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات میں پاکستان کی مصالحتی کوششوں اور علاقائی تنازع کے توانائی، کھاد کی فراہمی اور عالمی غذائی تحفظ پر مرتب ہونے والے اثرات پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیر خزانہ نے سیلاب کے دوران کینیڈا کی امداد پر اظہارِ تشکر کیا اور سیاحت کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے ایک اور ممکنہ شعبے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے رندیپ سرائے کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے تھائی لینڈ کے وزیراعظم کی جانب سے ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر دیے گئے عشائیے میں ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگا سے ملاقات کی۔ اس موقع پر جاری اعلی سطحی روابط کے ساتھ دونوں رہنماں کو غیر رسمی تبادلہ خیال کا موقع ملا۔








