کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعد باقیات کی تلفی کیلئے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عمل کریں، محکمہ زراعت
کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعد باقیات کی تلفی کیلئے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عمل کریں، محکمہ زراعت

مزید خبریں
سیالکوٹ ۔ 16 اکتوبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت(توسیع) سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ کاشتکار سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت دھان کی کٹائی کے بعد باقیات کی تلفی کیلئے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عمل کریں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان10 ممالک میں سے ایک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں اور فضائی آلودگی کا شکار ہیں، سموگ ،ماحولیاتی آلودگی کی ایک خطرناک قسم ہے ، ٹھہری ہوئی ہوا میں موجود گیسیں مثلا کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسا ئیڈ ، میتھین، سلفر ڈائی آکسائیڈاور ہائیڈرو کاربن وغیرہ کے ذرات مل کر سموگ کا روپ دھار لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سموگ فضائی آلودگی کی وہ قسم ہے جو انسانوں، جانوروں اور پودوں کے علاوہ پورے ماحول کو آلودہ کر دیتی ہے ۔
افتخار حسین بھٹی نے کہا کہ سموگ بننے کی وجوہات میں ٹریفک اور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھویں کے علاوہ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا بھی شامل ہے،اس ضمن میں محکمہ زراعت کی طرف سے کاشتکاروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سموگ سے بچائو کے لئےدھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو آگ ہر گز نہ لگائیں کیونکہ اس عمل سے فضائی آلودگی(سموگ)پیدا ہوتی ہے، دھان کی فصل ابھی برداشت سے کٹائی کی طرف جا رہی ہے اور دھان کے کاشتکارفصلوں کی باقیات کی تلفی کےلئے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عمل کریں۔
انہوں نے بتایا کہ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے، دھان کے کاشتکار مڈھوں کو آگ لگانے کی بجائے انہیں زمین میں ملا کر زرخیزی میں اضافہ کریں،دھان کے مڈھوں کو تلف کرنے کےلئے کاشتکار دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر اور مشین سے کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کی مدد سے فصل کی باقیات کو زمین میں گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرکے پانی لگا دیں،اس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت پنجاب نے فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے،دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کی صورت میں ایف آئی آر کا اندراج ،گرفتاری اور2 لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزائیں ہو سکتی ہیں ، اس لئے کاشتکار دھان کے مڈھوں کی تلفی کے سلسلے میں محکمہ زراعت کی ہدایات پر عمل کریں کیونکہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگیوں اور فصلوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔








