ایل پی جی کی مجوزہ تقسیم کے طریقہ کار سے متعلق حالیہ شائع شدہ خبر میں دیا گیا تاثر درست نہیں،، پٹرولیم ڈویژن

ایل پی جی کی مجوزہ تقسیم کے طریقہ کار سے متعلق حالیہ شائع شدہ خبر میں دیا گیا تاثر درست نہیں،، پٹرولیم ڈویژن

اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):پٹرولیم ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ ایل پی جی کی مجوزہ تقسیم کے طریقہ کار سے متعلق حالیہ شائع شدہ خبر میں دیا گیا تاثر درست نہیں۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے فروخت حکومت کی ترجیح ہے، ایل پی جی کی مجوزہ تقسیم کے طریقہ کار کا مقصد چند مارکیٹ پلیئرز تک مقامی پیداوار کے ارتکاز کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم ڈویژن نے مارکیٹ میں ایل پی جی کی رسد بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے ہیں، تاکہ مقامی ایل پی جی کی مسابقتی عمل کے ذریعے فروخت سے مارکیٹ کے تمام شرکا کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ایل پی جی پالیسی 2016 کے مطابق دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں گیس کی دستیابی یقینی بناتے ہوئے مقامی طور پر تیار ہونے والی ایل پی جی کی شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے فروخت بھی شامل ہے۔ مجوزہ طریقہ کار کا مقصد منصفانہ مسابقت کو فروغ دینا، مقامی طور پر تیار ہونے والی ایل پی جی کی تقسیم میں شفافیت بڑھانا اور پیداواری شعبے سے وابستہ اداروں کو ان کے وسائل پر منصفانہ منافع کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

اس اقدام کے تحت محدود مارکیٹ پلیئرز کے بجائے تمام متعلقہ فریقین کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ معاملہ اس وقت عدالتوں میں زیرِ کارروائی ہے اور حکومت قانون کے مطابق تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ حکومت مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانے، کاروباری ماحول کو منصفانہ اور شفاف بنانے اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کی اولین ترجیح عوامی فلاح و بہبود ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایل پی جی کی دستیابی اور تقسیم کو بہتر بنانا اور ایل پی جی پالیسی 2016 کے مطابق دور دراز اور پہاڑی علاقوں کے صارفین تک اس کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ مجوزہ طریقہ کار کو شفافیت، منصفانہ مسابقت اور مارکیٹ میں بہتر فراہمی کے فروغ کے اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس میں قانونی تقاضوں اور عوامی مفادات کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

مزید خبریں