پائیدار ترقی کے لئے مقامی شمولیت، عوامی اعتماد اور جامع قیادت ناگزیر ہے، غربت، صحت عامہ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، سول سوسائٹی اور مقامی آبادیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا،خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری

پائیدار ترقی کے لئے مقامی شمولیت، عوامی اعتماد اور جامع قیادت ناگزیر ہے، غربت، صحت عامہ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، سول سوسائٹی اور مقامی آبادیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا،خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری

اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے پائیدار ترقی کے لیے مقامی آبادیوں کی شمولیت، عوامی اعتماد اور جامع قیادت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کے دیرپا حل مقامی آبادیوں کی ضروریات اور تجربات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیے جانے چاہئیں جبکہ غربت، صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، سول سوسائٹی اور مقامی آبادیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)پاکستان کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مضمون میں خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے موسمیاتی تبدیلی، تنازعات، معاشی دباؤ، عدم مساوات اور نقل مکانی کے باعث بڑھتے ہوئے چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے ان سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات اور مضبوط شراکت داریوں پر زور دیا۔اپنی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سیاسی و سماجی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ عوامی خدمت ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کی بنیاد ان لوگوں کی بات سننے، ان کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے پر ہے جن کی آوازیں اکثر سنی نہیں جاتیں ۔ پاکستان بھر میں اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی کو محض پالیسیوں اور پروگراموں کے ذریعے نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں آنے والی بہتری سے جانچا جانا چاہیے جس میں خاندانوں کے لیے زیادہ تحفظ، بچوں کے لیے بہتر مواقع اور مضبوط آبادیوں کی تشکیل شامل ہے۔

انہوں نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خاندانوں کے ساتھ ان کا رابطہ اور اعتماد قائم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں درحقیقت ویکسین پلانے جتنی ہی اہمیت رکھتی ہیں۔خاتون اول نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کردار کو بھی اجاگر کیا جو سماجی تحفظ فراہم کرنے اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو معاشی مشکلات سے نمٹنے میں مدد دے رہا ہے۔

موسمیاتی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بار بار آنے والے سیلاب اور شدید گرمی کی لہروں نے کمیونٹی کی سطح پر مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کی اہمیت واضح کی ہے۔ انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بحالی کے عمل میں متاثرہ آبادی کی بات سننا اور ان کی طویل مدتی ضروریات کو پورا کرنا ضروری ہے۔آصفہ بھٹو زرداری نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے رابطے اور عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہنگامی امداد کے بعد طویل مدتی بحالی پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف)اقدام کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات برداشت کرنے کی صلاحیت پر مبنی تعمیر نو کی مثال قرار دیا جس کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو زیادہ محفوظ گھر اور روزگار کے ذرائع دوبارہ تعمیر کرنے میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔خاتون اول نے تعلیم اور مواقع میں اضافے کے ذریعے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا جبکہ خواتین کو کمیونٹی رہنماؤں، کاروباری شخصیات اور تبدیلی کے محرکات کے طور پر اہم قرار دیا۔

بین الاقوامی تعاون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غربت، صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، سول سوسائٹی اور مقامی آبادیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔یو این ڈی پی کی جانب سے ادارہ جاتی ترقی اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے معاونت کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کا انحصار باہمی تعاون اور لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے مشترکہ عزم پر ہے۔خاتون اول نے کہا کہ دیرپا تبدیلی کا آغاز کمیونٹیز سے ہوتا ہے، جہاں اعتماد قائم کیا جاتا ہے اور بامعنی شرکت اور جامع قیادت کے ذریعے لوگوں کو اپنا مستقبل سنوارنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

مزید خبریں