وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی کلائمیٹ ولنریبل فورم ، وی 20 سیکرٹریٹ اور مورگن اسٹینلے کیپٹل کے نمائندوں سے ملاقاتیں، موسمیاتی مالی معاونت بڑھانے، کیپٹل مارکیٹ میں اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی رسائی بہتر بنانے پر زور
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی کلائمیٹ ولنریبل فورم ، وی 20 سیکرٹریٹ اور مورگن اسٹینلے کیپٹل کے نمائندوں سے ملاقاتیں، موسمیاتی مالی معاونت بڑھانے، کیپٹل مارکیٹ میں اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی رسائی بہتر بنانے پر زور

مزید خبریں
بنکاک۔16اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پانی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خودمختار سرمایہ کاری کو راغب کرنے، موسمیاتی مالی معاونت بڑھانے اور پاکستان کی سرمایہ منڈی میں اصلاحات کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرکت میں اضافے پر زور دیا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ر بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر کلائمیٹ ولنریبل فورم (سی وی ایف) اور وی 20 سیکرٹریٹ کی منیجنگ ڈائریکٹر سارہ جین احمد اور مورگن اسٹینلے کیپٹل انٹرنیشنل کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران کیا۔ان ملاقاتوں میں گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان بھی ان کے ہمراہ تھے۔سارہ جین احمد سے ملاقات میں پاکستان کے کلائمیٹ پراسپیرٹی پلان، رعایتی شرائط پر مالی معاونت میں اضافے اور مجوزہ لائف لائن فنڈ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے فنڈ کے قیام کی تجویز کو سراہتے ہوئے اس کے مالیاتی ڈھانچے، نظم و نسق، وسائل تک رسائی، منافع اور رقوم نکلوانے کے طریقہ کار سے متعلق وضاحت طلب کی،مجوزہ منصوبے کے تحت لائف لائن فنڈ کو اپریل 2027 تک فعال کرنے، ابتدائی طور پر 50 کروڑ ڈالر جمع کرنے اور بعد ازاں اس کا حجم 2 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ملاقات میں مجوزہ کنٹری پلیٹ فارم، سرمایہ کاروں کی فہرست، برِج اقدام اور چینی اداروں سمیت ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ متعلقہ وزارتیں ان اقدامات کی ملکیت اور ذمہ داری سنبھالیں، انہیں بجٹ میں شامل کریں اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کو یقینی بنائیں تاکہ وسائل کے موثر استعمال کے ساتھ کوششوں کی غیر ضروری تکرار سے بچا جا سکے۔
ایم ایس سی آئی کے نمائندوں سے ملاقات میں پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ میں اصلاحات، بہتر ہوتے معاشی اشاریوں اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی شرکت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ میں پیش رفت اجاگر کرتے ہوئے ابھرتی ہوئی منڈی کا درجہ حاصل کرنے کے امکانات سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ملاقات میں ایم ایس سی آئی کے درجہ بندی کے معیار اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے زرِمبادلہ، پیشگی مالی انتظامات، مالیاتی خطرات سے بچائو اور مشترکہ سرمایہ کاری سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر خصوصی کنورٹیبل روپیہ اکائونٹ کے تحت رقوم کی واپسی کے انتظامات اور روشن ڈیجیٹل اکائونٹ تک رسائی میں توسیع سے متعلق امور بھی واضح کئے گئے۔شرکا نے کیپٹل مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے اور عملی مسائل کے حل کے لیے تکنیکی سطح پر مزید رابطوں اور پیشرفت کی حمایت کی۔








