پاکستان، مصر، فلسطین، ترکیہ، جبوتی، لبنان، لیبیا، یمن، قطر، اردن، وفاقی صومالیہ، ملائیشیا، انڈونیشیا، سعودی عرب، کویت، الجزائر، اومان، شام اور سوڈان کے وزرائے خارجہ نے جمہوریہ کولمبیا کی جانب سے بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے منافی اور دو …
اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کولمبیا کی جانب سے بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کی مذمت

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):پاکستان، مصر، فلسطین، ترکیہ، جبوتی، لبنان، لیبیا، یمن، قطر، اردن، وفاقی صومالیہ، ملائیشیا، انڈونیشیا، سعودی عرب، کویت، الجزائر، اومان، شام اور سوڈان کے وزرائے خارجہ نے جمہوریہ کولمبیا کی جانب سے بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے منافی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہے۔
جمعہ کو وزارت خارجہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس بات کی توثیق کی کہ مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی یا تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے یا اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے لیے کیا جانے والا کوئی بھی اقدام یا فیصلہ غلط ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ یہ موقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں بالخصوص سلامتی کونسل کی قراردادوں 476 (1980) اور 478 (1980) کے عین مطابق ہے جن میں بیت المقدس کے تشخص یا حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا ہے اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس شہر سے اپنے سفارتی مشنز واپس بلائیں کیونکہ بیت المقدس فلسطینی علاقے کا حصہ ہے جس پر 1967ء میں قبضہ کیا گیا تھا۔
اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے کولمبیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور اسے واپس لے، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جن سے فلسطینی عوام کے جائز حقوق بشمول مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنانے کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حق متاثر ہوتا ہو۔








