پاکستان کے وسیع معدنی وسائل، ریکو ڈک کاپر اینڈ گولڈ منصوبے اور اہم معدنیات کے شعبے میں بین الاقوامی شراکت داری سے ملکی برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے امکانات روشن ہو رہے ہیں جبکہ حکومت معدنی وسائل کی تلاش، جدید پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ کے ذریعے اس شعبے کی معاشی استعداد سے بھرپور استفادہ کرنے کے لئے کوشاں ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ …
پاکستان کے معدنی وسائل عالمی سرمایہ کاری کے لئے اہم مواقع فراہم کر رہے ہیں، ریکو ڈک اور امریکی شراکت داری سے معاشی ترقی کی توقع

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کے وسیع معدنی وسائل، ریکو ڈک کاپر اینڈ گولڈ منصوبے اور اہم معدنیات کے شعبے میں بین الاقوامی شراکت داری سے ملکی برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے امکانات روشن ہو رہے ہیں جبکہ حکومت معدنی وسائل کی تلاش، جدید پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ کے ذریعے اس شعبے کی معاشی استعداد سے بھرپور استفادہ کرنے کے لئے کوشاں ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے پی ) کے فراہم کردہ تخمینے کے مطابق پاکستان کے معدنی وسائل کی مالیت تقریباً 8 ٹریلین ڈالر ہے تاہم معدنی شعبے کا ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 3 فیصد سے کم رہا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، مؤثر طرزِ حکمرانی اور سرمایہ کاری کے فروغ سے معدنی شعبے کو ملکی معیشت کا اہم محرک بنایا جا سکتا ہے۔بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکو ڈک منصوبہ پاکستان کے بڑے تانبے اور سونے کے منصوبوں میں شامل ہے۔ منصوبے میں بیرک مائننگ کا 50 فیصد، حکومتِ بلوچستان کا 25 فیصد اور تین وفاقی سرکاری اداروں، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، کا مجموعی حصہ 25 فیصد ہے۔ فروری 2025 میں جاری کردہ فیزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق منصوبے کی متوقع مدتِ کان کنی 37 سال اور مجموعی سرمایہ کاری کا تخمینہ 8.83 ارب ڈالر تھاتاہم بیرک مائننگ نے اپریل 2026 میں سکیورٹی صورتحال کے باعث منصوبے کی ترقیاتی سرگرمیاں محدود کرنے اور وسط 2027 تک اس کا جائزہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور پیداوار کے سابقہ تخمینوں پر نظرثانی ممکن ہے۔
اہم معدنیات کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لئے 8 ستمبر 2025 کو فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور امریکی کمپنی یو ایس سٹریٹجک میٹلز کے درمیان دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق مجوزہ تعاون میں تانبا، سونا، اینٹی منی، ٹنگسٹن اور نایاب زمینی عناصر کی تلاش، پراسیسنگ اور لاجسٹکس شامل ہیں جبکہ پہلے مرحلے میں تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 اب 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگا۔ فورم کا مقصد عالمی سرمایہ کاروں، کان کنی کی کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کو پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کے مواقع سے متعارف کرانا ہے۔ معدنی وسائل کی پائیدار ترقی، مقامی سطح پر پراسیسنگ، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری، ماحولیاتی تحفظ اور شفاف سرمایہ کاری کے نظام کو فروغ دے کر پاکستان اس شعبے کو برآمدات میں اضافے، روزگار کی فراہمی اور طویل مدتی معاشی ترقی کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔








