پاکستان اپنی علاقائی خودمختاری ، سالمیت کا دفاع کرنے اور کسی بھی جارحیت کا مناسب جواب دینے کیلئے تیار ہے، ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی خودمختاری اور سالمیت کا دفاع کرنے اور کسی بھی جارحیت کا مناسب جواب دینے کے لئے تیار ہے، پاکستان ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حالیہ حوثی حملے کی سخت مذمت اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی …

اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی خودمختاری اور سالمیت کا دفاع کرنے اور کسی بھی جارحیت کا مناسب جواب دینے کے لئے تیار ہے، پاکستان ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حالیہ حوثی حملے کی سخت مذمت اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لئے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔

جمعہ کو وزارت خارجہ میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سفیر سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب پر جاری حملوں پر گہری تشویش ہے اور حوثی ملیشیا کے تازہ ترین دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہری آبادی اور اہم انفراسٹرکچر پر حملے ناقابل قبول ہیں جو کہ علاقائی امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ 11 اکتوبر کو پاکستان نے سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے ساتھ آر4 گروپ کے فریم ورک کے تحت مشترکہ بیان میں حوثی حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، اس کے علاقے اور آبادی کے تحفظ کے لئے جائز اقدامات کی حمایت کی جبکہ حملوں کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور دیگر زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتے یمن میں ایک پاکستانی ڈرائیور جاں بحق ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا رکن ہے اور مکمل طور پر اس معاہدے میں شامل ہے، وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا ،سعودی عرب کو اپنے اور اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس معاہدے پر سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مکمل اتفاق ہے۔ معاہدے کے تحت ممکنہ فوجی ردعمل کے بارے میں سوال پر ترجمان نے کہا کہ ایسے معاملات سکیورٹی اداروں کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ یمن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف مستقل اور واضح ہے، تنازعہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ علاقائی تنازعات پرامن طریقے سے حل ہوں۔فلسطینی مسئلے پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے 18 دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر مقبوضہ بیت المقدس میں کولمبیا کے سفارتخانے کے افتتاح کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے خلاف ہے اور دو ریاستی حل کے لئے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کیلئے 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان نے فلسطینیوں کی وطن واپسی میں حائل رکاوٹوں کی بھی مذمت کی اور ان کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کی حمایت کی۔ دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر 13 سے 14 اکتوبر تک پاکستان کا دورہ کیا۔انہوں نے پاکستان-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کی اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سمندری رابطے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، افرادی قوت کی نقل و حرکت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے، کمیشن کی کارروائیوں کو ریکارڈ کرنے والے پروٹوکول پر بھی دستخط کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ نائب وزیر اعظم نے 14 اکتوبر کو وزارت خارجہ میں روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف سے ملاقات کی،وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ دونوں فریقین نے دو طرفہ تعلقات کی سمت کا جائزہ لیا، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت، سیاحت اور عوامی تبادلوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا اور کثیر الجہتی فورمز، بشمول شنگھائی تعاون تنظیم میں ہم آہنگی جاری رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ 10 اکتوبر کو نائب وزیراعظم نے مالدیپ کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور مالدیپ کے صدر کے پاکستان کے آئندہ دورے کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا،دونوں فریقین نے "بامعنی اور نتیجہ خیز دورے” کو یقینی بنانے کے لئے قریبی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر کو نائب وزیراعظم نے مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبداللاتی اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگوکی۔

مصری وزیر سے گفتگو میں انہوں نے مکالمے اور سفارتکاری پر زور دیا اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی تصدیق کی۔ انہوں نے ترک وزیر خارجہ سے غزہ اور فلسطین کے ساتھ ساتھ عراق میں ہونے والی او آئی سی کی وزراء خارجہ کی کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے اور حکمت عملی پر بات کی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی خودمختاری اور سالمیت کا دفاع کرنے اور کسی بھی جارحیت کا مناسب جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھارتی فوجی اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دیا گیا اور کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کی صورت میں اپنی سلامتی کا مکمل دفاع کرے گا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اقدامات غیر قانونی اور یکطرفہ تھے، جموں و کشمیر اقوام متحدہ میں متنازعہ معاملہ ہے اور اس کا مستقبل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طے کیا جائے گا۔

انہوں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ مسئلہ ہر فورم پر اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو جمعہ کی نماز پڑھنے سے بھی روکا گیا ہے ۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی خلاف ورزیوں سے باز رہے۔ترجمان نے کہا کہ نائب وزیر اعظم نے 12 اکتوبر کو اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کی جانب سے منعقدہ انسداد دہشت گردی، ٹی ٹی پی، سرحد پار خطرات اور علاقائی سلامتی پر ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نائب وزیر اعظم نے پاکستان کے ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم کی تصدیق کی اور افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشتگردعناصر کے خلاف "ٹھوس، قابل تصدیق اور ناقابل واپسی کارروائی” کریں۔ انہوں نے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروپوں سے لاحق خطرے کو بھی اجاگر کیا، جن میں افغانستان سے کام کرنے والے گروہ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے انسداد دہشت گردی اقدامات کا خاکہ پیش کیا جن میں نیشنل ایکشن پلان، آپریشن عزم استقلال اور بہتر انٹیلی جنس کوآرڈینیشن شامل ہیں ۔

انہوں نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔میڈیا کے سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملے افغان سرزمین سے کئے جاتے ہیں اور بھارتی پراکسیز اس میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور وہ اس مسئلے پر بین الاقوامی برادری، دوست ممالک اور کثیرالجہتی فورمز سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغان علاقے کو اس کے خلاف استعمال نہ کیا جائے لیکن کابل اس کی ضمانت دینے کے لئے تیار نہیں ہے، پاکستان کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان مخالف سرگرمیاں قابل تصدیق طور پر روکی جائیں ،افغانستان کے ساتھ مذاکرات غیر مشروط نہیں ہو سکتے، پاکستان افغانستان میں سلامتی اور استحکام چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے متعلق دوست ممالک کی کسی بھی مثبت کوشش کا خیرمقدم کرے گا، پاکستان کے افغانستان کے لئے خصوصی نمائندہ حال ہی میں ماسکو میں تھے اور پاکستان روس کے ساتھ افغانستان اور علاقائی سلامتی پر رابطوں کو اہمیت دیتا ہے لیکن روسی ثالثی کی کسی رسمی کوشش سے آگاہ نہیں ہے۔

ایران کے خلاف الزامات پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان محض الزامات پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا برادر ملک ہے اور اس کی قیادت نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے اور پاکستان کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13 اکتوبر کو نائب وزیراعظم نے اسلام آباد میں یورپی کمشنر برائے داخلی امور اور ہجرت میگنس برونر سے ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے پاکستان-یورپی یونین تزویراتی روابط کے منصوبہ کے تحت ہجرت اور نقل و حرکت پر تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کی۔ نائب وزیر اعظم نے پاکستان کی غیر قانونی ہجرت، مہاجرین کی سمگلنگ اور انسانی سمگلنگ کے خلاف کوششوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ ان کے ساتھ ساتھ پاکستانی ہنر مند مزدوروں اور پیشہ ور افراد کے لئے قانونی ہجرت کے زیادہ مواقع ہونے چاہئیں۔ کمشنر نے پاکستان کی پیشرفت کو سراہا اور قانونی راستوں کو وسعت دینے کی صلاحیت کو تسلیم کیا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے اقدامات سے یورپ میں غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف کئی ادارہ جاتی اقدامات کئے گئے ہیں اور پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا انٹرنیشنل فزیکل پروٹیکشن ایڈوائزری سروس کا پاکستان میں مشن 9 اکتوبر کو کامیابی سے مکمل ہوا،مشن نے پاکستان کے جوہری سلامتی کے قانونی اور ضابطہ کاری فریم ورک کا جائزہ لیا اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی ٹیم نے پاکستان کے تعاون، شفافیت اور پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا۔ انہوں نے اسے پاکستان کے لئے پہلا آئی پی پی اے ایس مشن قرار دیا جو ملک کی جوہری سلامتی اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال پر بین الاقوامی تعاون کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے وزارت خارجہ، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کے درمیان ڈیٹا بیسز کے انضمام کے لئے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، اس اقدام کا مقصد تعلیمی دستاویزات کی تصدیق کو آسان بنانا، شفافیت کو بہتر بنانا اور ڈیجیٹل خدمات کو وسعت دینا، تاخیر کو کم کرنا اور پاکستانیوں کے لئے ملکی و بیرون ملک جسمانی دوروں کی ضرورت کو کم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں کی سہولت کے لئے تعلیمی دستاویزات کے لئے ای-تصدیق کا نظام شروع کیا گیا ہے۔ دستاویزات کی تصدیق میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محکمہ جاتی تحقیقات جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیٹی وزارت خارجہ کے باہر کے ارکان پر مشتمل ہے اور اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ترجمان نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی ) سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی ہے، اور پاکستان چاہتا ہے کہ اس کے وسائل میں دنیا بھر سے سرمایہ کاری کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کو امن اور استحکام کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چھ امیدوار ہیں اور وہ مختلف مواقع پر پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب مرحلہ وار ہوتا ہے اور ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ پاکستان کس امیدوار کی حمایت کرے گا۔ ترجمان نے کہا کہ سفیر عاصم افتخار احمد نے 12 اکتوبر کو نائب وزیر اعظم سے ملاقات کی جب انہوں نے باضابطہ طور پر وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نائب وزیر اعظم نے نیو یارک میں پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے کے طور پر ان کی خدمات کو سراہا اور ان کی کامیابی کی دعا کی۔