بنکاک۔16اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان برآمدات پر مبنی ترقی، ٹیکس و ٹیرف اصلاحات اور مالیاتی تحفظ کے موثراقدامات کے ذریعے معاشی استحکام برقرار رکھنے اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بات جمعہ کو گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ہمراہ عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 …
پاکستان برآمدات پر مبنی ترقی، معاشی استحکام برقرار رکھنے اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے،وزیرخزانہ محمداورنگزیب

مزید خبریں
بنکاک۔16اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان برآمدات پر مبنی ترقی، ٹیکس و ٹیرف اصلاحات اور مالیاتی تحفظ کے موثراقدامات کے ذریعے معاشی استحکام برقرار رکھنے اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بات جمعہ کو گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ہمراہ عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر مٹسوبشی یو ایف جے فنانشل گروپ کے زیرِ اہتمام سرمایہ کاروں کے اجلاس میں شرکت کے دوران کہی۔
اجلاس میں پاکستان کے معاشی منظرنامے اور مالیاتی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے مالیاتی استحکام، بنیادی مالیاتی سرپلس، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت، مہنگائی میں کمی اور شرحِ نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کے تخمینے پرتفصیل سے روشنی ڈالی۔ اجلاس میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے، قرضوں کی ادائیگی، دوطرفہ قرضوں کی مدت میں توسیع اور مہنگے قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیر خزانہ نے فارن ایکسچینج لبرلائزیشن، زرعی آمدنی پر ٹیکس، مالیاتی اختیارات کی منتقلی اور روپے میں متعین لیکن ڈالر میں ادائیگی والے بانڈز کے اجراء کے وقت سے متعلق سرمایہ کاروں کے سوالات کے جواب دیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل میں بانڈز کا اجرا، مارکیٹ کی صورتحال اور قرضوں کے انتظام کی حکمتِ عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل کے بعد بھی معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مالیاتی تحفظ کے موثر وسائل، ٹیکس اصلاحات اور برآمدات پر مبنی ترقی ناگزیر ہیں۔ ان اقدامات سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔اجلاس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، علاقائی تنازعات، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاواور ضروریات کے لیے ممکنہ اضافی اخراجات کو مختص بجٹ کے اندر رکھنے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔








