خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے غربت کے چکر کو توڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، بینظیر تعلیمی وظائف اور بینظیر نشوونما جیسے اقدامات کمزور طبقات کو بااختیار بنانے اور غربت میں کمی میں معاون ہیں اور یہ میرے دل کے بہت قریب ہیں ۔ انہوں نے یہ بات غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے …
غربت کے چکر کو توڑنے کی ضرورت ہے، بی آئی ایس پی جیسے اقدامات تخفیف غربت میں معاون ہیں،خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کا غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے غربت کے چکر کو توڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، بینظیر تعلیمی وظائف اور بینظیر نشوونما جیسے اقدامات کمزور طبقات کو بااختیار بنانے اور غربت میں کمی میں معاون ہیں اور یہ میرے دل کے بہت قریب ہیں ۔ انہوں نے یہ بات غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی جو 17 اکتوبر کو منایا جا رہا ہے ۔ آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر میری نیک تمنائیں اور دعائیں ان لاکھوں خواتین، بچوں اور خاندانوں کے ساتھ ہیں جو گھر کا چولہا جلانے ،سر پر چھت برقرار رکھنے اور اپنے پیاروں کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لئے ہر روز جدوجہد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غربت کے ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک انسانی چہرہ، ایک خاندان اور جدوجہد کی ایک کہانی ہوتی ہے۔
یہ ماں ہی ہوتی ہے جو خود بھوکی سو جاتی ہے تاکہ اس کے بچے کھانا کھا سکیں۔ یہ ننھی بچی ہوتی ہے جس کے تعلیم کے خواب مشکلات کے سائے تلے دب جاتے ہیں۔ یہ خاندان ہوتا ہے جو سیلاب میں سب کچھ کھو کر بھی دوبارہ زندگی شروع کرنے کی ہمت پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت صرف آمدنی کی کمی کا نام نہیں ہے۔ یہ وقار، مواقع اور زندگی کی ان سادہ سہولیات سے محرومی ہے جن کا ہر انسان مستحق ہے۔ آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میری والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کو آگے بڑھا رہا ہے، جو یقین رکھتی تھیں کہ خواتین کو بااختیار بنایا جائے اور سب سے کمزور افراد کو کبھی بےسہارا نہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مالی امداد براہِ راست خواتین کے ہاتھ میں دے کر، بی آئی ایس پی انہیں اپنی زندگیوں پر زیادہ اختیار دیتا ہے اور ان کی اپنے خاندانوں کی دیکھ بھال کی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر تعلیمی وظائف اور بینظیر نشوونما جیسے اقدامات بھی میرے دل کے اتنا ہی قریب ہیں۔
کسی بچے کو غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے، اور کسی ماں کو یہ دیکھنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا بچہ بھوک یا غذائی قلت کا شکار ہو۔ ہمیں غربت کے چکر کو توڑنا ہوگا تاکہ کسی بچے کی پیدائش کے حالات اس کے مستقبل کی حدود کا تعین نہ کریں۔ آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ کا رواں سال کا موضوع، ”سب کے لیے محفوظ گھر“، پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ میں 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے دل دہلا دینے والے مناظر کو نہیں بھول سکتی، جب خاندانوں نے نہ صرف اپنے گھر بلکہ اپنے ذریعہ معاش، اپنا سامان اور معمولی سا تحفظ بھی کھو دیا تھا جو انہوں نے زندگی بھر کی محنت سے حاصل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے حکومت سندھ کے تاریخی اقدام، سندھ پیپلز ہاؤسنگ برائے سیلاب زدگان (ایس پی ایچ ایف) سے حوصلہ ملا ہے جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والے 21 لاکھ گھر دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔
کئی لاکھ گھر پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں، جس سے خاندانوں کو اپنی زندگیاں دوبارہ بنانے کا موقع ملا ہے۔ آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ خاص طور پر پروگرام کا خواتین کی ملکیت اور محفوظ زمینی حقوق پر زور بہت اہمیت کا حامل ہے۔ عورت کے نام پر گھر اس کے سر پر صرف ایک چھت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ اس اور اس کے بچوں کے لیے تحفظ ، وقار اور خودمختاری کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسی ماں کے لیے جس نے بےخواب راتیں اس فکر میں گزاری ہوں کہ اس کے بچے کہاں سوئیں گے، محفوظ گھر کی کنجی سب کچھ ہے۔ اس کا مطلب ہے اگلے طوفان سے حفاظت، اس کے بچوں کے لیے پڑھنے کی جگہ اور یہ سکون کہ اس کے خاندان کا آخرکار کوئی اپنا ٹھکانہ ہے۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلی میں سب سے کم کردار ادا کرنے والے اکثر اس کے سب سے زیادہ تباہ کن نتائج کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دن ہمیں ایک ایسے پاکستان کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرنی چاہیے جہاں کسی ماں کو اپنے بچوں کو کھانا کھلانے اور انہیں تعلیم دلانے میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے، کوئی بچی غربت کے باعث اپنے خوابوں سے دستبردار ہونے پر مجبور نہ ہو اور مشکلات کے سامنے کسی خاندان کو امید سے محروم نہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میری والدہ کا خواب ایک ایسا پاکستان تھا جہاں غریبوں کی آواز ہو، خواتین کو وقار حاصل ہو اور ہر بچے کو موقع ملے۔ وہ خواب آج بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ آئیے مل کر کام کریں تاکہ ہمدردی کو عمل، مشکلات کو امید، اور بہتر کل کے وعدے کو ہر پاکستانی خاندان کے لیے حقیقت میں بدل سکیں۔







