مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح ،فلسفی سر سید احمد خان کی سالگرہ ہفتہ کو منائی گئی

مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح ،فلسفی سر سید احمد خان کی سالگرہ ہفتہ کو منائی گئی

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی سر سید احمد خان کی سالگرہ ہفتہ 17 اکتوبر کو منائی گئی۔ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل اور دو قومی نظریہ خالق تصور کیا جاتا ہے جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔سر سید احمد خان کا اصل نام احمد خان متقی بن محمد متقی تھا اور وہ 17 اکتوبر 1817 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے نانا خواجہ فرید الدین احمد خان سے حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم میں سر سید احمد خان نے قرآن پاک کا مطالعہ ، عربی اور فارسی ادب کا مطالعہ بھی کیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے حساب، طب اور تاریخ میں بھی مہارت حاصل کی۔ سر سید نے کئی سال ادویات کا مطالعہ بھی کیا۔ ان کے بڑے بھائی نے شہر میں سب سے پہلے پرنٹنگ پریس کی بنیاد رکھی، جہاں سے جریدہ القران اکبر شائع ہوتا تھا۔ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے اپنے خالو مولوی خلیل اللہ سے عدالتی کام سیکھا۔ 1837 میں آگرہ میں کمشنر کے دفتر میں بطور نائب منشی کے فرائض سنبھالے۔ 1841سے 1842 میں مین پوری اور 1842 سے 1846تک فتح پور سیکری میں سرکاری خدمات سر انجام دیں۔ محنت اور ایمانداری سے ترقی کرتے ہوئے 1846 میں دہلی میں صدر امین مقرر ہوئے۔

دہلی میں قیام کے دوران میں سر سید احمد خان نے اپنی مشہور کتاب آثارالصنادیدتحریر کی ۔ بجنور میں قیام کے دوران انھوں نے اپنی کتاب سرکشی ضلع بجنور لکھی۔ جنگ آزادی ہند 1857 کے دوران وہ بجنور میں قیام پزیر تھے۔ سر سید احمد خان کو 1857میں ترقی دے کر صدر الصدور بنا دیا گیا اور ان کی تعیناتی مراد آباد کر دی گئی۔1877 میں وہ امپریل کونسل کے رکن نامزدہوئے۔ 1888 میں ان کو سر سید کا خطاب دیا گیا اور 1889 میں انگلستان کی یونیورسٹی آف اڈنبرا نے ان کو ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری دی۔ سر سید احمد خان نے 1864میں غازی پور میں سائنسی سوسائٹی قائم کی۔ علی گڑھ گئے تو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ نکالا۔ انگلستان سے واپسی پر 1870 میں رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا۔

اس میں لکھے سرسید کے مضامین نے مسلمانان ہند کے خیالات میں انقلاب پیدا کر دیا اور ادب میں علی گڑھ تحریک کی بنیاد پڑی۔ سرسید کا کارنامہ علی گڑھ کالج ہے۔ بعد ازاں وہ 1869میں اپنے بیٹے سید محمود کے ساتھ انگلستان گئے تو وہاں انھیں دو مشہور رسالوں (Tatler) اور (Spectator) کے مطالعے کا موقع ملا۔ یہ دونوں رسالے اخلاق اور مزاح کے خوبصورت امتزاج سے اصلاح معاشرہ کے علم بردار تھے۔ انھوں نے مسلمانوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ ظرافت اور خوش طبعی فطری طور پر شخصیت کا حصہ تھی۔سر سید کو پاکستان مسلمانوں میں ایک موثر شخصیت اور دو قومی نظریہ کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔

سرسید برصغیر میں مسلم نشاۃ ثانیہ کے بہت بڑے علمبردار تھے۔ انھوں نے مسلمانوں میں بیداری علم کی تحریک پیدا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ انیسویں صدی کے بہت بڑے مصلح اور رہبر تھے۔ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو جمود سے نکالنے اور انھیں با عزت قوم بنانے کے لیے سخت جدوجہد کی وہ ایک زبردست مفکر، بلند خیال مصنف اور جلیل القدر مصلح تھے۔ انھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو سائنس٬ جدید ادب اور معاشرتی علوم کی طرف کو راغب کیا۔ انھوں نے انگریزی کی تعلیم کو مسلمانوں کی کامیابی کے لیے زینہ قرار دیا تاکہ وہ ہندوؤں کے مساوی و معاشرتی درجہ حاصل کر سکیں۔1886 میں سر سید احمد خاں نے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے نام سے ایک ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ مسلم قوم کی تعلیمی ضرورتوں کے لیے افراد کی فراہمی میں اس ادارے نے بڑی مدد دی اور کانفرنس کی کارکردگی سے متاثر ہو کر مختلف شخصیات نے اپنے اپنے علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

لاہور میں اسلامیہ کالج کراچی میں سندھ مدرسۃ الاسلام، پشاور میں اسلامیہ کالج اور کانپور میں حلیم کالج کی بنیاد رکھی۔ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس مسلمانوں کے سیاسی ثقافتی معاشی اور معاشرت حقوق کے تحفظ کے لیے بھی کوشاں رہی۔سر سید احمد خاں نے 1875میں ”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج“ کی داغ بیل ڈالی جسے 1920میں یونیورسٹی کا درجہ ملا اور آج اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل ہے۔انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ سیاست سے دور رہتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ تعلیم کے حصول اورمعاشی و معاشرتی طور پر بحالی پر دیں تاکہ وہ ہندوؤں کے برابر مقام حاصل کر سکیں۔

سرسید احمد خان 80 سال کی عمر میں 27 مارچ 1898 میں انتقال کر گئے اور علہ گڑھ میں اپنے کالج کی مسجد میں دفن ہوئے۔ ان کی سالگرہ کے موقع پر علمی،ادبی سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے سر سید احمد خان کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا گیا۔

مزید خبریں