بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی ) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے مالی معاونت، تعلیم، بہتر غذائیت اور ہنرمندی کے مواقع ناگزیر ہیں۔ بی آئی ایس پی سے بین الاقوامی دن برائے خاتمۂ غربت کے موقع پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ بینظیر کفالت کے تحت ایک کروڑ سے زائد خواتین بینیفشریز کو سہ ماہی مالی معاونت …
غربت کے خاتمے کے لیے مالی معاونت، تعلیم، بہتر غذائیت اور ہنرمندی کے مواقع ناگزیر ہیں،سینیٹر روبینہ خالد

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی ) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے مالی معاونت، تعلیم، بہتر غذائیت اور ہنرمندی کے مواقع ناگزیر ہیں۔ بی آئی ایس پی سے بین الاقوامی دن برائے خاتمۂ غربت کے موقع پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ بینظیر کفالت کے تحت ایک کروڑ سے زائد خواتین بینیفشریز کو سہ ماہی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے ادائیگیوں کے نظام کوشفاف، محفوظ اور آسان بنایا گیا ہے، بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد بچوں کا اندراج مکمل کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام سے 33 لاکھ سے زائد خواتین اور بچے مستفید ہو رہے ہین۔ روبینہ خالد نے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی کی سٹڈی کے مطابق، چھ ماہ کی عمر کے بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح میں 20 فیصد کمی ہوئی ہے۔ عالمی بینک کی تحقیق کے مطابق بی آئی ایس پی کے ہر ایک روپے کے خرچ سے مقامی معیشت میں 2.34 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے بین الاقوامی دن برائے خاتمۂ غربت کے موقع پر غربت کے خاتمے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بی آئی ایس پی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غربت کا پائیدار خاتمہ مالی معاونت کے ساتھ تعلیم، بہتر غذائیت اور فنی تربیت کے مواقع فراہم کرنے سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے ایک کروڑ سے زائد خواتین بینیفشریز کو سہ ماہی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے ادائیگیوں کے نظام کوشفاف، محفوظ اور آسان بنایا جارہا ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد بچوں کا اندراج مکمل ہو چکا ہے، جو بچوں کو تعلیم جاری رکھنے اور غربت کے چکر سے نکلنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام سے 33 لاکھ سے زائد خواتین اور بچے مستفید ہو چکے ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی کی مڈ لائن اسٹڈی کے مطابق، اس پروگرام کے نتیجے میں چھ ماہ کی عمر کے بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح میں 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ بینظیر ہنرمند پروگرام کے ذریعے خواتین بینیفشریز اور ان کے اہلِ خانہ کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ روزگار کے بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔
عالمی بینک کی تحقیق کے مطابق، بی آئی ایس پی کے تحت خرچ کیے جانے والے ہر ایک روپے سے مقامی معیشت میں 2.34 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی آئی ایس پی مالی معاونت، تعلیم، غذائیت اور ہنرمندی کے ذریعے غربت میں کمی اور خاندانوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔







