وزیر مملکت برائے امور داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاست اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیں کیونکہ پاکستان کا امن اور عوام کا تحفظ سیاسی مفادات سے زیادہ اہم ہے۔ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست اپنی جگہ اہم ہے، تاہم پاکستان کا امن …
دہشت گردی کے خلاف سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا ہوگا،طلال چوہدری

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 17 اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے امور داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاست اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیں کیونکہ پاکستان کا امن اور عوام کا تحفظ سیاسی مفادات سے زیادہ اہم ہے۔ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست اپنی جگہ اہم ہے، تاہم پاکستان کا امن اور عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کی ہر شکل کی بلاامتیاز مذمت کی جانی چاہیے، خواہ اس میں کوئی بھی گروہ ملوث ہو یا اس کے سیاسی اثرات کچھ بھی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے سیاسی جماعتوں، سکیورٹی فورسز، سرکاری اداروں اور عام شہریوں سب کو نقصان پہنچا ہے۔ دہشت گردوں نے جنازوں اور شادی کی تقریبات کو بھی نشانہ بنایا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) یا کسی دوسرے عسکریت پسند گروہ سے تعلق رکھنے والے عناصر دہشت گرد ہی ہیں۔طلال چوہدری نے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری ریاست اور قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ 11 برس کے دوران مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے کسی قومی یا صوبائی رہنما کو دہشت گردی کا نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا، جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن ایسے واقعات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے پی ٹی آئی کے حق میں جاری کیے گئے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اس تنظیم نے کسی دوسری سیاسی جماعت کے حق میں ایسا بیان کیوں جاری نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طویل عرصے سے ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان بعض مشترکہ مفادات کے ممکنہ وجود کی نشاندہی کرتی رہی ہے، تاہم اس معاملے کا جائزہ شواہد، قانون اور متعلقہ ریاستی اداروں کی تحقیقات کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کی حمایت یا انہیں سہولت فراہم کرنے میں ملوث پائے جانے والے کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ایسی کارروائی کا تعین متعلقہ ریاستی ادارے اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کریں گے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر تعاون کے لیے خیبرپختونخوا حکومت سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم اب تک قابلِ عمل لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے مذاکرات کی دعوت پر وفاقی نمائندوں نے ان کی رہائش گاہ، دفتر یا کے پی ہاؤس میں ملاقاتوں کے لیے آمادگی ظاہر کی، لیکن دہشت گردی کے خلاف مؤثر تعاون کا عملی نظام تشکیل نہیں پا سکا۔انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کا مقصد سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن کی بحالی ہے۔ صوبے میں مسلسل بدامنی کے باعث عام شہری مشکلات کا شکار ہیں جبکہ خوف اور عدم استحکام کاروبار، روزگار، سرمایہ کاری اور معمول کی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کے بغیر کوئی بھی صوبہ پائیدار ترقی اور معاشی خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا متبادل انتظامی انتظامات سے متعلق سوال پر طلال چوہدری نے کہا کہ مقصد حکومت بنانا یا گرانا نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور امن کی بحالی ہے۔ ایسے انتظامات کو سیاسی عہدے حاصل کرنے یا سیاسی فریقین میں منصب تقسیم کرنے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ، عوام کا تحفظ اور ایسا ماحول قائم کرنا ہے جس میں شہری خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔ ان کے مطابق یہ معاملہ سیاسی جوڑ توڑ کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ہے۔ امن کی صورت میں حکومت، اپوزیشن اور سیاسی اختلافات معمول کے مطابق اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم بدامنی پورے سیاسی نظام کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ٹی ٹی پی کے ساتھ ماضی کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2013 اور 2014 میں اس تنظیم کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں بانی پی ٹی آئی کا نام بھی تجویز کیا گیا تھا۔
ان مذاکرات کی ناکامی کے بعد آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کا سانحہ پیش آیا اور بعدازاں نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) تشکیل دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب سیاسی قوتیں سکیورٹی فورسز کے ساتھ متحد ہوئیں اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی حمایت کی تو ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ اب بھی اسی نوعیت کے قومی اتفاق رائے کو بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں 5 ہزار جنگجوؤں کو ضم کرنے کی تجویز، جو بانی پی ٹی آئی سے منسوب کی جاتی ہے، عوامی ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ ایسی تجویز پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی، جبکہ ملک کو اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف مضبوط مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے تجربات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند گروہوں کے خلاف مستقل قومی پالیسی ضروری ہے اور دہشت گردی کے معاملے پر ریاست کے مؤقف میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے معدنی وسائل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے امن، سکیورٹی اور محفوظ نقل و حمل ضروری ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جن علاقوں میں لوگ گاڑی، موٹر سائیکل یا پیدل بھی محفوظ سفر نہیں کر سکتے، وہاں معدنیات کی تلاش، نکاسی اور تجارتی سرگرمیاں کیسے ممکن ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ معدنی وسائل اسی وقت معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں جب سرمایہ کاروں، کارکنوں اور مقامی آبادی کو مناسب تحفظ فراہم کیا جائے۔ مسلسل دہشت گردی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور عوام کی معمول کی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں اور دیگر متاثرین کی قربانیوں کو امن کے قیام کی بنیادی ضرورت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے پرچم تلے جان قربان کرنے والا سپاہی پوری قوم کے لیے ایک ذمہ داری کی علامت ہے، اس لیے ملک کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم ضروری ہے۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف واضح اور مستقل مؤقف اختیار کریں اور تمام عسکریت پسند تنظیموں کی بلاامتیاز مذمت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی سیاسی سہولت یا مصلحت کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے اور مشتبہ دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کے خلاف تمام اقدامات قانون کے دائرے میں رہ کر کیے جانے چاہییں۔انتخابی نتائج سے متعلق سیاسی بیانات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض اوقات جیتنے اور ہارنے والے دونوں فریق انتخابی کامیابی سے محروم کیے جانے کے دعوے کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو دوسروں کی حیثیت پر سوال اٹھانے سے پہلے اپنے دعوؤں کی بنیاد واضح کرنی چاہیے۔
انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ باہمی الزامات کے بجائے تعمیری مکالمے اور قومی ترجیحات پر توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مقابلہ، عوام کا تحفظ اور سکیورٹی فورسز کی حمایت کسی ایک جماعت یا ادارے کی کوششوں سے ممکن نہیں، اس کے لیے پوری قوم کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ امن سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور سماجی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ امن و امان کے بغیر کاروباری سرگرمیاں مؤثر انداز میں جاری نہیں رہ سکتیں، سرمایہ کاری محدود رہتی ہے اور عام شہری غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔طلال چوہدری نے تمام سیاسی قوتوں اور معاشرے کے مختلف طبقات پر زور دیا کہ وہ جماعتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دیں اور ایسا ماحول قائم کرنے میں کردار ادا کریں جہاں شہری خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں، کام کر سکیں اور معاشی مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور عوام کا تحفظ ہر صورت قومی ترجیحات میں سرفہرست رہنا چاہیے۔








