امریکی صدر نے روس کے خلاف بعض پابندیوں پر عملد رآمد روک دیا

امریکی صدر نے روس کے خلاف بعض پابندیوں پر عملد رآمد روک دیا

واشنگٹن ۔18اکتوبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے خلاف بعض پابندیوں پر عملد رآمد ان پابندیوں کے نفاذ سے صرف دو دن قبل روک دیا ہے جس سے بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان اختلافات میں شدت کا عندیہ ملتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق روس کے خلاف ان پابندیوں کی منظوری امریکی کانگریس نے دی تھی اور ستمبر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں قانون کی شکل دی تھی۔تاہم امریکی صدر نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے بعض پابندیوں کی معطلی امریکا کے قومی مفاد میں ہے۔

ادھر یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس کے خلاف پابندیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کا امریکی فیصلہ افسوسناک ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ معطلی 60 روز کے لیے ہوگی جس کا مقصد عالمی معیشت پر اس کے اثرات کا جائزہ لینا ہے۔

ان نئی پابندیوں کا ہدف روسی معیشت تھی جس کے تحت ٹرمپ کو یہ وسیع اختیارات دیے گئے کہ وہ روسی تیل اور گیس خریدنے والے پانچ بڑے خریداروں، بالخصوص چین اور بھارت سے درآمدات پر 100 فیصد تک محصولات عائد کر سکیں۔اس قانون میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سمیت روس کی اعلیٰ شخصیات، روسی مالیاتی اداروں اور ماسکو کے شیڈو فلیٹ کے خلاف پابندیاں بھی شامل تھیں، جو موجودہ پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں پر مشتمل ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ٹرمپ 60 دن کا وقت اس بات کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ پابندیوں اور محصولات کے نفاذ کے عالمی معیشت اور حتیٰ کہ امریکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔