مصنوعی ذہانت سے ایک نئی جاب مارکیٹ فروغ پذیر ہے، شاہد اے خان

مصنوعی ذہانت سے ایک نئی جاب مارکیٹ فروغ پذیر ہے، شاہد اے خان

اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):مصنوعی ذہانت (اے آئی)سے ایک نئی جاب مارکیٹ فروغ پذیر ہے، اے آئی سے ملازمتیں ختم نہیں ہو رہیں بلکہ روزگار کے اصولوں کی تشکیل نو کا عمل جاری ہے، ملازمتوں کی زیادہ مانگ والے شعبوں میں سرٹیفیکیشن سے مستقبل کے امکانات مزید روشن ہوں گے۔ معروف تجزیہ کار شاہد اے خان نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتوں اور پالیسی سازوں کیلئے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنا ہمیشہ سے ہی ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے معاشیات و سماجیات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2050 تک دنیا کی آبادی 10 ارب نفوس تک بڑھ جائے گی جن میں سے 18 تا 60 سال کی عمر کے کام کرنے کے اہل افراد کی تعداد 6 ارب افراد پر مشتمل ہو گی۔

اس طرح کی صورت حال کے تناظر میں اے آئی، آٹو میشن اور دیگر ٹیکنالوجیز روزگار کی مارکیٹ میں متعدد نئی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کو دنیا بھر میں انسانی معاشرتی اقدار اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ایک اہم ترین عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں اے آئی کو ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

حالیہ دور میں ملازمتوں کی عالمی مارکیٹ میں اے آئی اور آٹو میشن کی مہارتوں کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔ ان مہارتوں کے حامل افراد دیگر افراد کے مقابلہ میں کہیں زیادہ معاوضہ بھی لے رہے ہیں۔ شاہد اے خان نے کہا کہ اے آئی سے ملازمتیں ختم نہیں ہو ر ہیں بلکہ روزگار کے مواقع نئی مہارتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے کارکنوں کو نئی مہارتوں سے لیس کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب ورکرز کیلئے تیزی سے بدلتے ہوئے کام کے ماحول کو اپنانا ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا مستقبل کی جاب مارکیٹ کے پیش نظر مصنوعی ذہانت اور آٹو میشن کی تعلیم میں اضافہ نا گزیر ہے۔ اس حوالہ سے آن لائن کورسز اور سرٹیفیکیشن اہم کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ ورکرز کو مستقبل کی جاب مارکیٹ کی ضروریات سے آراستہ کیا جا سکے۔