گندم کی بوائی جدید تحقیق اور بہتر اقسام کے ساتھ کی جائے، پیداوار بڑھانے کیلئے جدید زرعی سفارشات پر عمل ناگزیر ہے،ڈاکٹر جاوید اختر

گندم کی بوائی جدید تحقیق اور بہتر اقسام کے ساتھ کی جائے، پیداوار بڑھانے کیلئے جدید زرعی سفارشات پر عمل ناگزیر ہے،ڈاکٹر جاوید اختر

فیصل آباد۔ 18 اکتوبر (اے پی پی):چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد ڈاکٹر جاوید اختر نے کہا ہے کہ ملکی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے کاشتکار گندم کی بوائی بروقت اور جدید زرعی تحقیق کی روشنی میں کریں۔

موسمی حالات، بیماریوں، کیڑوں اور دیگر زرعی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی ایسی اقسام کی کاشت کو فروغ دینا ضروری ہے جو زیادہ پیداوار کے ساتھ ساتھ گرمی اور بیماریوں کے خلاف بہتر قوتِ مدافعت رکھتی ہوں۔انہوں نے بتایا کہ شعبہ گندم ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد گندم کی تحقیق کے حوالے سے ملک کا اہم ترین تحقیقی مرکز ہے جہاں کاشتکاروں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے مسلسل نئی اقسام اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر تحقیق کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم کی بہتر پیداوار کیلئے بروقت بوائی، معیاری و تصدیق شدہ بیج کا استعمال، زمین کی مناسب تیاری، متوازن کھادوں کا استعمال اور آبپاشی کے درست شیڈول پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔

کاشتکار ایسی منظور شدہ اقسام کا انتخاب کریں جو ان کے علاقے کے موسمی حالات اور زمین کی نوعیت سے مطابقت رکھتی ہوں۔ڈاکٹر جاوید اختر نے بتایا کہ شعبہ گندم کی تحقیق کے نتیجے میں ملک میں متعدد زیادہ پیداوار دینے والی اور مختلف بیماریوں و موسمی دباؤ کے خلاف بہتر خصوصیات رکھنے والی اقسام جن میں میکسی پاک 65،چناب 70،انقلاب 91،،سحر 06،فیصل آباد08، گلیکسی13، اناج 17، حیدر 93،ڈیورم97، عروج22، تلبینہ21، پرل21، ڈیورم26 وغیرہ جبکہ گزشتہ پانچ سالوں میں گندم کی سات نئی اقسام (دلکش20، سبحانی21، ایم ایچ21، عروج22، فلک24، سویرا24 اور رزق26)، جَو کی دو اقسام (جَو-21 اور تلبینہ-21،پرل21-) اور ڈیورم کی دو اقسام (ڈیورم-21 اور ڈیورم-26) جاری کی گئیں۔

زنک اور آئرن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اکبر-19 اور رزق-26 بائیو فورٹیفائیڈ اقسام ہیں جن میں بالترتیب 38 اور 40 پی پی ایم زنک موجود ہے۔ ان اقسام میں سے کاشتکار اپنے علاقے اور محکمہ زراعت کی سفارشات کے مطابق موزوں قسم کا انتخاب کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گندم کی فصل کی کامیابی کا آغاز ہی اچھی اور بروقت بوائی سے ہوتا ہے، اس لئے کاشتکار بوائی میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کریں۔ تاخیر سے کاشت کی صورت میں فصل کو موسم کی شدت، بیماریوں اور کمزور پیداواری صلاحیت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ڈاکٹر جاوید اختر نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ گندم کی بوائی کے حوالے سے محکمہ زراعت اور زرعی تحقیقاتی اداروں کی سفارشات پر عمل کریں، معیاری بیج استعمال کریں اور فصل کی بروقت نگرانی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں، بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں کے تدارک کیلئے ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق کو کھیت تک منتقل کرکے ہی گندم کی پیداوار میں نمایاں اضافہ اور ملکی غذائی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں