ڈریپ کا بڑا اقدام، وٹامنز، غذائی سپلیمنٹس اور بچوں کے دودھ سمیت 8 اقسام کی مصنوعات کے لیے ضابطہ جاتی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے عام استعمال کی صحت سے متعلق مصنوعات کی 8 اقسام کو سخت ضابطہ جاتی نگرانی کے دائرے میں لانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔سرکاری ذرائع کےمطابق ان مصنوعات میں وٹامنز، غذائی سپلیمنٹس،ادویاتی صابن، شیمپو اور شیر خوار بچوں کے لیے خصوصی دودھ سمیت دیگر مصنوعات شامل ہیں۔نظرثانی شدہ ضابطہ جاتی فریم …

اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے عام استعمال کی صحت سے متعلق مصنوعات کی 8 اقسام کو سخت ضابطہ جاتی نگرانی کے دائرے میں لانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔سرکاری ذرائع کےمطابق ان مصنوعات میں وٹامنز، غذائی سپلیمنٹس،ادویاتی صابن، شیمپو اور شیر خوار بچوں کے لیے خصوصی دودھ سمیت دیگر مصنوعات شامل ہیں۔نظرثانی شدہ ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت نوٹیفکیشن میں شامل مصنوعات کی پاکستان میں تیاری یا مارکیٹنگ سے قبل متعلقہ رجسٹریشن، منظوری اور معیار کی جانچ کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

اس اقدام کا مقصد ادویاتی یا علاج سے متعلق دعوے رکھنے والی مصنوعات کے لیےمقررہ معیار اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے تاکہ صارفین غیر معیاری، جعلی یا ممکنہ طور پر نقصان دہ مصنوعات سے محفوظ رہ سکیں۔ماہرین صحت کے مطابق یہ اقدام خصوصی طور پر شیر خواربچوں کے دودھ، وٹامنز اور غذائی سپلیمنٹس کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ مصنوعات سپر مارکیٹس، فارمیسیوں اور دیگر دکانوں پر وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ صارفین کے لیے مناسب ضابطہ جاتی نگرانی کے حامل اور ایسی مصنوعات کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے جن کے معیار، اجزا یا تیاری کے طریقہ کار کی مناسب تصدیق نہ کی گئی ہو۔

سخت نگرانی سے تیاری کے عمل، مصنوعات کی ترکیب، لیبلنگ اور معیار کے مقررہ ضوابط کے مطابق جانچ پڑتال کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔اس اقدام سے ادویاتی یا جراثیم کش خصوصیات کے دعوؤں کے ساتھ فروخت ہونے والی جعلی اور غیر معیاری مصنوعات کی مارکیٹنگ کی روک تھام اور مینوفیکچررز و درآمد کنندگان کو متعلقہ ضوابط پر عمل درآمد کا پابند بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔فارماسسٹس اور ماہرین صحت نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ صحت سے متعلق مصنوعات قابل اعتماد ذرائع سے خریدیں اورسپلیمنٹس، ادویاتی مصنوعات یا بچوں کی خصوصی غذائیت سے متعلق مصنوعات کے انتخاب میں ماہرین سے مشورہ کریں۔فارماسسٹس اور ماہرین صحت نے ڈریپ کی جانب سے مخصوص صحت سے متعلق اور بغیر نسخے کے فروخت ہونے والی (او ٹی سی) مصنوعات کو علاجی اشیا کے طور پر تسلیم کرنےکےنوٹیفکیشن کو سراہتے ہوئے اسے ضابطہ جاتی نگرانی مضبوط بنانے اور عوامی صحت کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

انہوں نے 6 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر S.R.O. 1688(I)/2026 کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے مصنوعات کے معیار، حفاظت اور متعلقہ ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ مخصوص صحت سے متعلق مصنوعات کو علاجی اشیا کے طور پر تسلیم کرنے سے ضابطہ جاتی نظام مضبوط ہوگا اور شعبہ صحت میں جوابدہی کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ صارفین کےتحفظ، معیار کو یقینی بنانے اور مارکیٹ میں محفوظ مصنوعات کی دستیابی کے لیے صحت سے متعلق مصنوعات کی مؤثر نگرانی ضروری ہے۔ماہرین نے صحت کے معیار کو بہتر بنانے اور صحت سے متعلق مصنوعات پر عوامی اعتماد مضبوط کرنے کے لیے متعلقہ ضابطہ جاتی اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔انہوں نے اس نوٹیفکیشن کو محفوظ علاج معالجے اور بہتر عوامی صحت کی جانب قابلِ تحسین اقدام قرار دیتے ہوئے علاجی اشیا کے ضابطہ جاتی فریم ورک کو بہتر بنانے کے لیے ڈریپ کی کوششوں کو سراہا۔