ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ملک کی پہلی میڈیکل ڈیوائسز پالیسی کی تیاری کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک کی پہلی میڈیکل ڈیوائسز پالیسی کی تیاری کے لیے صحت کے شعبے کے ماہرین، ریگولیٹری اداروں اور صنعتی شعبے کےمتعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا،ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانا اور ضروری طبی ٹیکنالوجیز تک رسائی بہتر بنانا ہے۔

اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک کی پہلی میڈیکل ڈیوائسز پالیسی کی تیاری کے لیے صحت کے شعبے کے ماہرین، ریگولیٹری اداروں اور صنعتی شعبے کےمتعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا،ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانا اور ضروری طبی ٹیکنالوجیز تک رسائی بہتر بنانا ہے۔

ابتدائی مشاورتی اجلاس نیشنل ریگولیٹری سسٹم اسٹریٹجک پلان 2026-30 کے تحت منعقد ہوا جس میں پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (پی این آر اے)، کنیکٹیک، پاکستان انجینئرنگ اینڈ میڈیکل ڈیوائسز ایسوسی ایشن (پیمڈا)، ہیلتھ ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایچ ڈی اے پی)، مقامی طبی آلات تیار کرنے والے اداروں اور کنٹریکٹ ریسرچ آرگنائزیشنز (سی آر اوز) کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں مقامی سطح پر طبی آلات کی تیاری کے لیے سازگار ریگولیٹری ماحول قائم کرنے اور شواہد پر مبنی ضابطہ جاتی فیصلوں کے فروغ کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مجوزہ پالیسی کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی، طبی ٹیکنالوجی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور درآمدی مصنوعات پر انحصار کم کرنے کے ذریعے ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کے وژن کو آگے بڑھانا ہے۔ذرائع کے مطابق ڈریپ ایسا ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنا چاہتا ہے جو صحت کے شعبے میں جدت کی معاونت کے ساتھ ملک بھر میں مریضوں کی ضروری اور قابلِ اعتماد طبی ٹیکنالوجیز تک رسائی بہتر بنائے۔