روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی و چینی ہم منصبوں ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ آئندہ ماہ سہ فریقی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ہے، تاہم اس کے ایجنڈے اور انعقاد بارے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
روسی صدر کی یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیےامریکی اور چینی ہم منصبوں کے ساتھ سربراہی اجلاس کی تجویز

مزید خبریں
ماسکو ۔19اکتوبر (اے پی پی):روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی و چینی ہم منصبوں ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ آئندہ ماہ سہ فریقی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ہے، تاہم اس کے ایجنڈے اور انعقاد بارے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔رائٹرز نے وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ صدر پیوٹن نے یہ تجویز 9 اکتوبر کو امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیش کی تھی، مجوزہ اجلاس کا مقصد یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر بات چیت کرنا ہے جس سے روس کو فائدہ پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کریملن نے ایشیا پیسفک اقتصادی تعاون (اے پی ای سی)کے آئندہ سربراہی اجلاس کے موقع پر سہ فریقی مذاکرات منعقد کرنے کی تجویز دی ہے، اے پی ای سی اجلاس 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شین ژین میں شیڈول ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ممکنہ ملاقات کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، تاہم اجلاس یا اس کے ایجنڈے کے بارے میں ابھی کوئی واضح صورت حال نہیں۔
ان کے مطابق تینوں فریق اس طرح کی ملاقات کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں۔ایک سینئر امریکی عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے تاحال مجوزہ سربراہی اجلاس پر اتفاق نہیں کیا، تاہم وہ اس تجویز پر مثبت ردعمل دے سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران بہتری آئی ہے۔








