امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ویزوں کے اجرا پر پابندیوں، سفری ممانعتوں اور داخلے کے سخت قوانین کے ذریعے امریکا میں قانونی امیگریشن کی شرح نصف کر دی جو جدید امریکی تاریخ میں امیگریشن میں ہونے والی نمایاں ترین تخفیف میں سے ایک ہے۔ یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے فروری میں …
امریکا میں قانونی امیگریشن کی شرح نصف رہ گئی ، نیو یارک ٹائمز

مزید خبریں
واشنگٹن۔19اکتوبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ویزوں کے اجرا پر پابندیوں، سفری ممانعتوں اور داخلے کے سخت قوانین کے ذریعے امریکا میں قانونی امیگریشن کی شرح نصف کر دی جو جدید امریکی تاریخ میں امیگریشن میں ہونے والی نمایاں ترین تخفیف میں سے ایک ہے۔ یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے فروری میں صرف 26 ہزار امیگرنٹ ویزے جاری کیے، جو گرین کارڈ اور امریکا میں قانونی مستقل رہائش کا درجہ حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
اس کے برعکس ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے قبل کے برسوں میں اوسطاً ہر ماہ 52 ہزار ایسے ویزے جاری کیے جاتے تھے۔ اخبار نے یہ اعداد و شمار حکومت کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے آخر اور رواں سال کے آغاز میں نافذ ہونے والی پالیسیوں کے باعث 91 ممالک سے امریکا میں قانونی امیگریشن تقریباً ناممکن ہو گئی جبکہ مزید 61 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی دستیابی بھی محدود کر دی گئی۔ افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ان پابندیوں سے بالخصوص متاثر ہوئے جبکہ مسلم اکثریتی ممالک سے امیگریشن میں 90 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 91 ممالک کی تعداد میں انتظامیہ کی جانب سے سفری پابندیوں یا محدود داخلے کی زد میں آنے والے 39 ممالک، فلسطینی اتھارٹی یا فلسطینی شہریوں سے متعلق پابندیاں، اور 75 ممالک پر عائد امیگرنٹ ویزوں کے اجرا کی معطلی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہائوس میں واپسی کے بعد پہلے سال میں ویزوں کی تعداد میں تقریباً 10 فیصد کی معمولی کمی ہوئی تھی۔ تاہم، جنوری میں توسیع شدہ سفری پابندیوں کے تحت 39 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزوں کے حصول یا امریکا میں داخلے پر پابندیاں عائد کر دی گئیں جبکہ مزید 52 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزوں کا اجرا روک دیا گیا۔
اس سے ایک ماہ قبل ان ممالک کے شہریوں کے لیے ڈائیورسٹی امیگرنٹ ویزا پروگرام بھی معطل کر دیا گیا تھا جن کی امریکا میں تارکینِ وطن کی تعداد نسبتاً کم ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد ویزا درخواست دہندگان کی سکیورٹی خطرات اور مستقبل میں سرکاری مراعات سے ممکنہ استفادے کے حوالے سے جانچ پڑتال کو بہتر بنانا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ان پالیسیوں سے سب سے زیادہ امیگرنٹ ویزے متاثر ہوئے، تاہم طلبہ اور کارکنوں کے لیے نان امیگرنٹ ویزوں میں بھی کمی آئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد کم ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق فروری میں سیاحتی اور کاروباری دوروں کے لیے جاری کیے گئے ویزوں کی تعداد بھی تقریباً 25 فیصد کم رہی۔ سفری پابندیوں کے تحت 39 ممالک کے شہریوں کے لیے طلبہ اور ملازمت کے ویزوں کا حصول مکمل طور پر روک دیا گیا جبکہ نئے ضوابط اور فیسوں کے باعث دیگر ممالک کے شہریوں کو بھی پہلے کی نسبت کم تعداد میں طلبہ اور ایچ ون بی (H-1B) ورک ویزے جاری کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت اور چین جیسے ممالک پر براہِ راست سفری پابندیاں عائد نہیں تھیں، اس کے باوجود ان ممالک کے شہریوں کے لیے طلبہ اور ملازمت کے ویزوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی۔اس کے علاوہ جنوبی سرحدی داخلی مقامات پر قانونی پناہ کی درخواستوں میں 99.9 فیصد کمی آئی جبکہ پناہ گزینوں کی امریکا آمد میں تقریباً 90 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق نئی پالیسیاں کانگریس کی منظوری کے بغیر نافذ کی گئیں، تاہم بعد ازاں وفاقی عدالتوں نے ان میں سے بعض اقدامات کو روک دیا۔ اگست کے اختتام پر دو الگ الگ مقدمات میں وفاقی عدالتوں نے حکومت کو دوبارہ ویزے جاری کرنے کا عمل شروع کرنے کا حکم دیا۔ نیو یارک ٹائمز کی پورٹ کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود ان پابندیوں سے متاثر ہونے والے افراد کی ایک بڑی اکثریت اب بھی ویزوں کے اجرا کی منتظر ہے۔








