ڈیجیٹل و مالیاتی فراڈ اور ڈیپ فیک کے بڑھتے خطرات، شہری مشکوک لنکس، آن لائن ٹرانزیکشنز اور غیر مصدقہ مواد کے حوالے سے محتاط رہیں،پی ٹی اے کی سائبر سکیورٹی کے لئے جامع ایڈوائزری
ڈیجیٹل و مالیاتی فراڈ اور ڈیپ فیک کے بڑھتے خطرات، شہری مشکوک لنکس، آن لائن ٹرانزیکشنز اور غیر مصدقہ مواد کے حوالے سے محتاط رہیں،پی ٹی اے کی سائبر سکیورٹی کے لئے جامع ایڈوائزری

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)نے ملک میں ایک محفوظ، بااعتماد اور مستحکم سائبر سپیس کے قیام کے لئے قومی سطح پر’’سائبر سکیورٹی آگاہی ہفتہ 2026‘‘ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ 23 اکتوبر 2026تک جاری رہنے والی اس آگاہی مہم کے تحت پی ٹی اے نے عوام کو نہ صرف مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ ڈیپ فیک مواد بلکہ آن لائن مالیاتی فراڈ اور ڈیجیٹل سکیموں کے خلاف بھی انتہائی چوکنا رہنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔پی ٹی اے کی جاری کردہ ہدایات میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل اور مالیاتی معاملات کو محفوظ بنانے کے لئے ذاتی معلومات کے تحفظ کو ترجیح دیں اور کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے سے پہلے سو بار سوچیں۔
اتھارٹی کے مطابق محفوظ اور مستحکم ڈیجیٹل پاکستان کی تشکیل کے لئے ضروری ہے کہ ہر شہری اپنے ڈیجیٹل دفاع کو مضبوط بنائے، ذمہ دارانہ آن لائن رویے اپنائے اور مالیاتی لین دین کے دوران غیر معمولی احتیاط برتے تاکہ آن لائن دھوکہ دہی، مالیاتی نقصان اور فراڈ کے بڑھتے ہوئے خطرات کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ترجمان کے مطابق اس مہم کے تحت جاری کردہ تفصیلی آگاہی پیغام میں واضح کیا گیا ہے کہ دورِ حاضر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایسی جعلی تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز تیار کی جا رہی ہیں جو بظاہر بالکل اصلی دکھائی دیتی ہیں لیکن درحقیقت وہ من گھڑت ہوتی ہیں، جنہیں ’ڈیپ فیک‘ کہا جاتا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کو کسی بھی شخص کی شناخت کی نقالی کرنے، جھوٹی خبریں اور گمراہ کن معلومات پھیلانے اور لوگوں کو مالی یا ذاتی سطح پر نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اتھارٹی نے عوام کو سخت تاکید کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے کسی بھی مشکوک آڈیو، ویڈیو یا تصویر پر فوری طور پر یقین نہ کریں اور نہ ہی تصدیق کے بغیر اسے آگے شیئر کریں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کسی بھی حساس معاملے پر سرکاری اور معتبر ذرائع سے معلومات کی تصدیق لازمی بنائیں۔ خاص طور پر اگر کسی ویڈیو یا آڈیو کال کے ذریعے رقوم کی منتقلی، ون ٹائم پاس ورڈ (او پی ٹی ) یا حساس ذاتی کوائف کا تقاضا کیا جائے تو ہرگز ایسی معلومات شیئر نہ کریں۔
پی ٹی اے نے اس امر پر زور دیا ہے کہ ڈیجیٹل سکرین پر نظر آنے والی ہر چیز کا حقیقی ہونا ضروری نہیں، اس لئے شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور غیر مصدقہ مواد کو پھیلانے سے مکمل گریز کریں۔ ادارے نے اپنے سلوگن ’ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ قدم‘ کے تحت صارفین کی سہولت اور فوری رہنمائی کے لئے ’پی ٹی اے ڈیجیٹل اسسٹنٹ‘ کی دستیابی کا بھی اعادہ کیا ہے تاکہ عوام مستند پلیٹ فارم کے ذریعے ٹیلی کام و ڈیجیٹل مسائل پر رہنمائی حاصل کر سکیں۔








