چین کی یاسوکونی مزار سے متعلق جاپانی اقدامات کی مذمت، احتجاج ریکارڈ کرا دیا

چین نے جاپان کی جانب سے یاسوکونی مزار سے متعلق اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے جاپانی حکومت کے سامنے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرادیا ہے۔شِنہوا کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پیر کو بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے 17 اور 19 اکتوبر کو یاسوکونی مزار پر مذہبی نذرانہ اور مالی عطیہ بھیجا، جبکہ جاپانی حکومت کے متعدد …

بیجنگ ۔19اکتوبر (اے پی پی):چین نے جاپان کی جانب سے یاسوکونی مزار سے متعلق اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے جاپانی حکومت کے سامنے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرادیا ہے۔شِنہوا کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پیر کو بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے 17 اور 19 اکتوبر کو یاسوکونی مزار پر مذہبی نذرانہ اور مالی عطیہ بھیجا، جبکہ جاپانی حکومت کے متعدد عہدیداروں، حکمراں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور ارکان پارلیمنٹ نے بھی حالیہ دنوں میں اس مقام کا دورہ کیا۔ماؤ ننگ نے کہا کہ یاسوکونی مزار جاپانی عسکریت پسندوں کی نظریاتی علامت ہے، جو جارحانہ جنگ کے ذمہ دار تھے۔

اس مزار میں دوسری جنگ عظیم کے دوران جنگی جرائم کے مرتکب قرار دیے جانے والے 14 اعلیٰ درجے کے جنگی مجرموں کی یادگاریں بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ جاپانی رہنما ان تاریخی حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں، اس کے باوجود مزار پر حاضری اور خراجِ عقیدت کے اقدامات جاپان کے تاریخی معاملات سے متعلق غلط تصورات اور جنگی جرائم کے ذمہ داروں کو بری الذمہ قرار دینے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

ان کے بقول ایسے اقدامات جارحیت سے متعلق تاریخی فیصلوں کو بدلنے اور جاپان کو دوبارہ عسکری طاقت بنانے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش بھی ہیں۔چینی ترجمان نے کہا کہ رواں سال ٹوکیو ٹرائلز کے آغاز کے 80 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے جاپان پر زور دیا کہ وہ تاریخ کا سامنا کرے، اپنے جرائم پر غور کرے، تاریخی معاملات پر رجعت پسندانہ اقدامات سے باز آئے اور ٹھوس عملی اقدامات کے ذریعے ایشیائی ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرے۔