وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ قومی ثقافتی ورثے، روایتی فنون اور دستکاریوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے،تخلیقی معیشت کے فروغ کے لیے وزار ت قومی ورثہ و ثقافت اور لاہور چیمبر ملکر کام کریں گے
تخلیقی معیشت کے فروغ کیلئے وزارت قومی ورثہ و ثقافت اور لاہور چیمبر مل کر کام کریں گے، اورنگزیب خان کھچی

مزید خبریں
لاہور۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ قومی ثقافتی ورثے، روایتی فنون اور دستکاریوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے،تخلیقی معیشت کے فروغ کے لیے وزار ت قومی ورثہ و ثقافت اور لاہور چیمبر ملکر کام کریں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی ، نائب صدر چودھری خادم حسین اور وفاقی سیکرٹری اسد رحمن گیلانی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین ہما جنید، چوہدری محمد فرغام، عامر عطا باری، شہزاد محمود، نائلہ ندیم، محمد علی، اعجاز غوری، سید یوسف، عاطف امین، شاہ بہرام اور دیگر بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ پاکستان کے ثقافتی ورثے، روایتی فنون اور دستکاریوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کی مفاہمتی یادداشتوں کی تعداد ایک سال میں23 سے بڑھ کر40 ہو گئی ہے جبکہ پاکستان کے 6 مقامات یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی مستقل فہرست میں شامل ہیں ۔
انہوں نے پاکستان کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات کے حوالے سے بھارت کے30 اور چین کے 60 مقامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنے تاریخی ورثے کی عالمی سطح پر شناخت بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ رواں سال2 تاریخی مقامات کو یونیسکو کی مستقل عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرانے کے لیے پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کو 2026-27 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کا سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت لاہور میں3 سے4 بڑے ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کے منصوبے ہیں جبکہ کراچی، اسلام آباد اورSCO کے رکن ممالک کی ثقافتی شرکت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے لوک میلہ کو پاکستان کا بین الاقوامی ثقافتی پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فنکاروں اور کاریگروں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر تعاون،مشترکہ ثقافتی سرگرمیوں، تربیتی ورکشاپس اور کاریگروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا،تاکہ پاکستان کی روایتی دستکاریوں، فنون اور ثقافتی ورثے کو عالمی منڈیوں تک پہنچا کر روزگار اور برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔
صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر نے تخلیقی معیشت کے فروغ کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس سے معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثقافتی مصنوعات کو عالمی سطح پر خاطر خواہ انداز میں متعارف کرانا ضروری ہے،اس مقصد کے لیے کاریگروں، ڈیزائنرز، صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ضروری ہے،تاکہ روایتی مصنوعات کی قدر میں اضافہ اور انکی عالمی مارکیٹنگ ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر تخلیقی معیشت کے فروغ کے لیے پروگرام منعقد کرے گا۔انہوں نے وفاقی وزیر کو کاروبار سے متعلق قوانین میں ترامیم کے لیے لاہور چیمبر کی کوششوں سے آگاہ کیا۔لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے کہا کہ لاہور اپنی تاریخ،ثقافت اور تاریخی ورثے کی بدولت ثقافتی سیاحت کے فروغ کے لیے غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ شہر کے ثقافتی تشخص کو مو ثر انداز میں اجاگر کرکے سیاحوں کو راغب کیا جا سکتا ہے،جس سے ہوٹلنگ،کیٹرنگ،ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اسے معاشی سرگرمیوں سے منسلک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزارت،لاہور چیمبر اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون سے ثقافتی سیاحت کو فروغ دینے اور مقامی کاروبار کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری چوہدری خادم حسین نے کہا کہ پاکستان کے ثقافتی ورثے،روایتی فنون اور دستکاریوں کو فروغ دینے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مو ثر تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی روایتی دستکاریوں اور ثقافتی مصنوعات میں عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور برآمدات بڑھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے،جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے جدید ڈیزائن،مو ثر مارکیٹنگ اور بین الاقوامی سطح پر تشہیر پر توجہ دینا ہوگی۔چوہدری خادم حسین نے کہا کہ کاریگروں، ڈیزائنرز، صنعت کاروں اور کاروباری برادری کے درمیان روابط مضبوط بنا کر تخلیقی صنعتوں کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ قومی شناخت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ثقافتی سیاحت، روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ایگزیکٹو کمیٹی ممبران نائلہ ندیم ، ہما ندیم ، شاہ بہرام و دیگر نے تجویز دی کہ لاہور چیمبر کی کاروباری برادری کو تاریخی مقامات کی سرپرستی کے لیے متحرک کیا جائے۔کاروباری ادارے اپنی سماجی ذمہ داری کے تحت تاریخی مقامات کی صفائی، تزئین و آرائش، دیکھ بھال اور تشہیر کے لیے اسپانسرشپ فراہم کر سکتے ہیں۔
اس طرح کاروباری اداروں کو تشہیر کا موقع ملے گا،تاریخی مقامات کی حالت بہتر ہوگی اور حکومت پر اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر ثقافتی ورثے کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔انہوں نے روایتی تہواروں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔وفاقی سیکرٹری اسد رحمن گیلانی نے کہا کہ تخلیقی معیشت دنیا بھر میں روزگار، برآمدات اور آمدن کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔پاکستان بھی اپنے روایتی ہنر اور ثقافتی مصنوعات کو جدید ڈیزائن، بہتر معیار اور مو ثر عالمی مارکیٹنگ کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا سکتا ہے۔انہوں نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بہاولپور کی کڑھائی، روایتی ملبوسات، اجرک، زیورات، قالین بافی اور ٹرک آرٹ کو جدید ڈیزائن کے ساتھ پیش کرکے عالمی سطح پر ان کی طلب پیدا کی جا سکتی ہے۔وفاقی سیکرٹری نے ثقافتی سیاحت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لاہور سمیت پاکستان کے متعدد شہر تاریخی اور ثقافتی مقامات سے مالا مال ہیں۔تاہم سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے تربیت یافتہ گائیڈز،سکیورٹی،صاف ستھری سہولیات، بہتر ٹرانسپورٹ اور معیاری خدمات فراہم کرنا ضروری ہے۔مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے ثقافتی سیاحت کو معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔








