سینیٹ ارکان کو سرکاری پاسپورٹ کے حصول کیلئے چھ سالہ مدت پوری کرنے کی شرط غیر ضروری امتیاز ہے،یکساں قواعد وضع کئے جانے چاہئیں،اعظم نذیر تارڑ

سینیٹ ارکان کو سرکاری پاسپورٹ کے حصول کیلئے چھ سالہ مدت پوری کرنے کی شرط غیر ضروری امتیاز ہے،یکساں قواعد وضع کئے جانے چاہئیں،اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سینیٹ ارکان کو سرکاری پاسپورٹ کے حصول کے لیے چھ سالہ مدت پوری کرنے کی شرط غیر ضروری امتیاز ہے، اسے ختم کرکے قومی اسمبلی اور سینیٹ ارکان کے لیے یکساں قواعد وضع کئے جانے چاہئیں۔ پیر کو سینیٹ میں سینیٹر عبدالقادر کی جانب سے بلیو پاسپورٹ سے متعلق پیش کی گئی تحریک پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی اسمبلی کے ارکان حلف اٹھانے کے بعد سرکاری پاسپورٹ کے اہل ہوجاتے ہیں جبکہ سینیٹ ارکان کو یہ سہولت حاصل کرنے کے لیے اپنی چھ سالہ مدت پوری کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سینیٹر مدت مکمل ہونے سے دو، تین یا چند ماہ قبل استعفیٰ دے دے تو وہ اس سہولت سے محروم رہتا ہے، اس امتیاز کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سابق ارکان پارلیمنٹ بھی سیاسی اور سفارتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور مختلف جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بین الاقوامی تقریبات اور بین الپارلیمانی یونین کے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں، اس لیے سرکاری پاسپورٹ سے متعلق قواعد میں یکسانیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سابق اور موجودہ ارکان پارلیمنٹ کے زیر کفالت بچوں کو 28 سال کی عمر تک سرکاری پاسپورٹ کی سہولت دینے کی تجویز پر بھی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہونے کی توقع ہے تاہم، ان کے مطابق اس سہولت کے دائرہ کار اور مستحق افراد کی تعداد کو مناسب طور پر محدود اور منظم کرنا ضروری ہے۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ سرکاری پاسپورٹ کسی اعزاز یا ذاتی حیثیت کی علامت نہیں بلکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گریڈ 21 اور 22 کے ریٹائرڈ سرکاری افسران کے بچوں کو 28 سال کی عمر تک سرکاری پاسپورٹ دینے سے متعلق قواعد میں موجود خامیوں کا بھی جائزہ لے کر انہیں دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو سرکاری پاسپورٹ کی بنیاد پر عزت و مرتبہ حاصل کرنے کے بجائے اپنی محنت اور صلاحیت سے اپنا مستقبل بنانا چاہیے۔