قرضوں کا حجم مالی سال 2023 کے اختتام پر جی ڈی پی کے 75 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 کے اختتام تک 68 فیصد رہ گیا، قرضوں میں اضافے کی سالانہ شرح بھی 26 فیصد کی نمایاں کمی کے بعد 7.7 فیصد پر آ گئی،وفاقی وزارت خزانہ

قرضوں کا حجم مالی سال 2023 کے اختتام پر جی ڈی پی کے 75 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 کے اختتام تک 68 فیصد رہ گیا، قرضوں میں اضافے کی سالانہ شرح بھی 26 فیصد کی نمایاں کمی کے بعد 7.7 فیصد پر آ گئی،وفاقی وزارت خزانہ

اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے موجودہ حکومت کے دور میں روزانہ 20 ارب روپے قرضہ بڑھنے سے متعلق میڈیا رپورٹ کو نامکمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرضوں کا حجم مالی سال 2023 کے اختتام پر جی ڈی پی کے 75 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 کے اختتام تک 68 فیصد رہ گیا جبکہ قرضوں میں اضافے کی سالانہ شرح بھی 26 فیصد کی نمایاں کمی کے بعد 7.7 فیصد پر آ گئی جو گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔ پیرکویہاں جاری بیان میں وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ میڈیا میں حال ہی میں شائع ہونے والی خبر جس میں موجودہ حکومت کے دور میں روزانہ 20 ارب روپے قرض میں اضافہ کادعویٰ کیاگیاہے ، سرکاری قرضوں کی صورت حال کا نامکمل جائزہ پیش کرتی ہے جس سے غلط فہمی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

بیان کے مطابق قرض کی مجموعی رقم میں وقت کے ساتھ اضافہ ہونا فطری امر ہے تاہم قرض کے حقیقی حجم کا اندازہ لگانے کے لیے اسے ملکی معیشت کے حجم، بالخصوص مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے دیکھنا ضروری ہے ، یہ صورت حال پاکستان سمیت بیشتر ممالک میں پائی جاتی ہے، لہذا قرضوں کے حقیقی بوجھ اور معیشت پر ان کے اثرات کا درست جائزہ لینے کے لیے قرضوں کا حجم معیشت بالخصوص مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے دیکھا جانا چاہیے۔

بیان کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کے قرضوں اور جی ڈی پی کے تناسب میں کمی آئی ہے جس سے محتاط مالیاتی نظم و نسق اور قرضوں کی صورتِ حال میں بہتری کی عکاسی ہورہی ہے ، مالی سال 2023 کے اختتام پر جی ڈی پی کے لحاظ سے قرضوں کاتناسب 75 فیصد کے برابر تھا جو مالی سال 2026 کے اختتام تک کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا۔ بیان میں کہاگیاہے کہ مالی سال 2023 کے دوران حکومتی قرضوں میں تقریبا 26 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مالی سال 2026 میں اضافے کی شرح کم ہو کر 7.7 فیصد رہ گئی، جو گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین شرح ہے، اس کے مقابلے میں مالی سال 2007 سے مالی سال 2026 تک حکومتی قرضوں میں سالانہ اوسط اضافہ 16.7 فیصد رہا۔ علاوہ ازیں اگست 2026ء کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جون 2026ء کے مقابلے میں حکومت کے قرضوں میں تقریبا 689 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بیان میں کہاگیاہے کہ حالیہ برسوں میں امریکی ڈالر کے لحاظ سے حکومتی بیرونی قرضوں میں اضافہ ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہا ہے، سرکاری شعبے کے بیرونی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب مالی سال 2023 کے اختتام پر 33 فیصد تھا، جو مالی سال 2026 کے اختتام تک کم ہو کر 23 فیصد رہ گیا جبکہ امریکی ڈالر کے لحاظ سے بھی بیرونی قرضوں میں اضافے کی رفتار ماضی کے مقابلے میں کم رہی ہے۔بیان میں کہاگیاہے کہ مالی سال 2022 کے اختتام سے مالی سال 2026 کے اختتام تک سرکاری شعبے کے بیرونی قرضے 100 ارب ڈالر سے بڑھ کر 106.8 ارب ڈالر ہو گئے جس سے سالانہ اوسط اضافہ تقریبا 1.7 ارب ڈالر بنتا ہے ،اس کے برعکس مالی سال 2015 کے اختتام سے مالی سال 2022 کے اختتام تک ان قرضوں کا حجم 54.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 100 ارب ڈالر ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں سالانہ اوسط اضافہ تقریبا 6.4 ارب ڈالر رہا۔بیان کے مطابق قرضوں پر سود اور دیگر ادائیگیوں کے اخراجات میں کمی آئی ہے، قرضوں کی ادائیگیوں کے اخراجات مالی سال 2025 میں 8.9 ٹریلین روپے سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں اندازا 6.9 ٹریلین روپے رہ گئے ہیں۔

اسی طرح وفاقی حکومت کی مجموعی آمدن کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگیوں کا تناسب مالی سال 2023 میں 64 فیصد تھا، جو مالی سال 2026 میں کم ہو کر 38 فیصد رہ گیا۔ بیان کے مطابق حکومت نے مالی سال 2025، مالی سال 2026 اور مالی سال 2027 کے ابتدائی عرصے کے دوران تقریبا 5.9 ٹریلین روپے کے مہنگے قرضوں کی مقررہ مدت سے پہلے ادائیگی کی ہے، اس کے علاوہ ملکی قرضوں کی اوسط مدت ادائیگی مالی سال 2024 میں 2.7 سال تھی جو بڑھ کر تقریبا 4 سال ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت سے قرضوں کی واپسی کے فوری دبائو میں کمی آئی ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے ،زرمبادلہ کے ذخائر پہلے کم ہو کر 2.9 ارب ڈالر کی سطح تک آ گئے تھے تاہم ستمبر 2026ء تک بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر ہو گئے جس سے ملک کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔

وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ واجب الادا قرضوں میں اضافے کو دنوں کی تعداد پر تقسیم کرکے روزانہ قرضوں میں اضافے کا تخمینہ لگانا، نئے قرض لینے کی حقیقی صورت حال یا ملک کے مجموعی قرضوں کی پوزیشن کا درست عکاس نہیں ہے، بنیادی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کے قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب کم ہوا ہے، قرضوں میں اضافے کی رفتار نمایاں طور پر سست پڑی ہے، قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں کمی آئی ہے اور بیرونی مالیاتی تحفظ کے ذخائر مضبوط ہوئے ہیں۔

مزید خبریں