پاکستان کا فلسطینی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے غزہ امن فریم ورک پر نیک نیتی سے عمل درآمد پر زور

پاکستان کا فلسطینی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے غزہ امن فریم ورک پر نیک نیتی سے عمل درآمد پر زور

اقوام متحدہ۔19اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نےغزہ میں اسرائیل کی جانب سے بڑے پیمانے پر تباہی کی نشاندہی کرتے ہوئے فلسطینیوں کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور ایک قابلِ عمل آزاد ریاست کے قیام کی راہ یقینی بنانے کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور نیویارک اعلامیے پر مکمل اور نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستانی مندوب محمد فہیم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دوسری کمیٹی ، جو اقتصادی اور مالیاتی امور سے متعلق ہے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں تباہی کی شدت حیران کن ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے سیکنڈ سیکرٹری فہیم، کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی ایک رپورٹ پر اظہارِ خیال کر رہے تھے۔ یہ رپورٹ مغربی ایشیا کے لیے اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن (ESCWA) کے گورننس اینڈ پریوینشن کلسٹر کے شعبۂ اقتصادی امور کے سربراہ یوسف چیتانی نے پیش کی تھی۔

رپورٹ کا عنوان تھا: ’’مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، اور مقبوضہ شامی جولان میں عرب آبادی کے حالاتِ زندگی پر اسرائیلی قبضے کے اقتصادی اور سماجی اثرات‘‘۔پاکستانی مندوب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے علاوہ اسرائیل کی پالیسیاں اور اقدامات ان کی معیشت کو تباہ ، انہیں ان کی زمینوں اور قدرتی وسائل سے محروم اور ان کی ترقی اور مستقبل کی خوشحالی کی بنیادوں کو منظم انداز میں کمزور کر چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فلسطینی معیشت 2023 کے مقابلے میں 84 فیصد سکڑ گئی ہے۔ اگلی دہائی کے دوران تعمیرِ نو کی ضروریات کا تخمینہ 71.4 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ انسانی ترقی کا عمل 77 سال پیچھے چلا گیا ہے۔زرعی زمینیں، پانی کی فراہمی کے نظام اور ماہی گیری سے وابستہ ذرائع معاش تباہ ہو چکے ہیں جبکہ مٹی اور زیرِ زمین پانی آلودہ ہو چکے ہیں۔

ایک پوری نسل کو اس کے مستقبل سے محروم کیا جا رہا ہے۔مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں توسیع، زمینوں پر قبضے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ E1 بستی کا منصوبہ فلسطینی علاقوں کے باہمی جغرافیائی اتصال کے لیے خطرہ ہے۔پاکستانی مندوب نے نشاندہی کی کہ غزہ امن منصوبے کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، ایک ہزار چار سو سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور انسانی امداد کی رسائی پر پابندیاں برقرار ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد ہونا چاہیے، امداد بلا رکاوٹ پہنچائی جانی چاہیے، اقوام متحدہ کے ادارے یواین آر ڈبلیو اے (UNRWA) کی معاونت کی جانی چاہیے اور بحالی و تعمیرِ نو کا عمل بلا تاخیر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ بستیوں کی تمام سرگرمیاں بند ہونی چاہییں اور الحاق کو آگے بڑھانے والے اقدامات واپس لیے جانے چاہییں۔مقبوضہ شامی جولان کے حوالے سے مندوب محمد فہیم نے کہا کہ وہاں غیر قانونی بستیاں مسلسل پھیل رہی ہیں، جبکہ زرعی زمینوں اور آبی وسائل کا استحصال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان شام کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق قبضے کے خاتمے کا مطالبہ دہراتا ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ قدرتی وسائل پر مستقل خودمختاری فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت سے الگ نہیں کی جا سکتی، کیونکہ یہ ان کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو فلسطینی قدرتی وسائل کے استحصال سمیت اپنے غیر قانونی اقدامات بند کرنے چاہییں اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کرنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر ہماری اجتماعی کوششوں کا مقصد ایک قابلِ اعتماد، مقررہ مدت کے حامل اور ناقابلِ واپسی سیاسی عمل پر مرکوز ہونا چاہیے، جو اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار، جغرافیائی طور پر متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔رپورٹ پیش کرتے ہوئے یوسف چیتانی نے ابتدا ءمیں صورتِ حال کی سنگینی بیان کی۔

انہوں نے کہا کہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہونے والی جنگ بندی نازک ہونے کے باوجود برقرار ہے، تاہم اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہی ہیں۔ان کے مطابق، 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور غزہ کی پٹی میں انسانی ترقی کے 77 سال کا سفر الٹ گیا ہے۔مغربی کنارے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ آبادکاروں کے تشدد کی سطح 2006 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مارچ 2026 تک 9,500 سے زائد فلسطینی مبینہ طور پر اسرائیلی جیلوں میں قید تھے، جن میں سے بہت سے افراد پر نہ کوئی الزام عائد کیا گیا تھا اور نہ ہی ان کے مقدمات چلائے گئے تھے۔غزہ میں تقریباً 19 لاکھ افراد، یعنی مجموعی آبادی کا 90 فیصد، بار بار بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد کو 10 مرتبہ سے بھی زیادہ نقل مکانی کرنا پڑی ہے اور وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً مکمل طور پر انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔

اسرائیلی بستیوں کی تیز رفتار توسیع کا ذکر کرتے ہوئے چیتانی نے مشرقی یروشلم میں 10 ہزار رہائشی یونٹس اور مغربی کنارے کے علاقے C میں 26 ہزار 640 سے زائد رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کے منصوبوں کا حوالہ دیا۔انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2025 تک مغربی کنارے میں نقل و حرکت کی 925 رکاوٹیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔غزہ میں مجموعی قومی پیداوار (GDP) 2025 میں 2023 کے مقابلے میں 84 فیصد گر گئی، جبکہ فی کس مجموعی قومی پیداوار کم ہو کر تقریباً 161 ڈالر رہ گئی، جو روزانہ 50 سینٹ سے بھی کم بنتی ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 46 فیصد تک پہنچ گئی۔دریں اثنا، مقبوضہ شامی جولان میں تقریباً 35 بستیوں میں 31 ہزار کے قریب اسرائیلی آبادکار رہائش پذیر ہیں۔تباہ کن صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فوری اور مسلسل اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے چیتانی نے زور دیا کہ انسانی امداد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ دیرپا اور جامع امن صرف مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کے تحت ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں