سینیٹ کا اجلاس (کل)ہوگا، متعدد بلز منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے، شناختی کارڈز کی بندش اور بجلی بلوں کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل

سینیٹ کا اجلاس (کل)ہوگا، متعدد بلز منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے، شناختی کارڈز کی بندش اور بجلی بلوں کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل

اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کا اجلاس (کل)منگل 20 اکتوبر کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا، جس میں متعدد حکومتی بلز منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے جبکہ بلوچستان کے رخشان اور مکران ڈویژنوں کے رہائشیوں کے قومی شناختی کارڈز بلاک کیے جانے اور بجلی کے بلوں میں سلیب کی بنیاد پر اضافی نرخوں کے معاملے پر بھی توجہ دلائو نوٹس پیش کیے جائیں گے۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں سوالات کے جوابات دیئے جائیں گے جبکہ مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس بھی پیش کی جائیں گی۔

اجلاس میں انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن ایکٹ 2023ء اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن و ریگولیشن ایکٹ 2013ء میں ترمیم سے متعلق بلز کو زیرِ غور لانے اور منظوری کے لیے پیش کرنے کی تحریکیں شامل ہیں۔وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (ترمیمی) بل 2026ء اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن و ریگولیشن (ترمیمی) بل 2026ء کو منظوری کے لیے پیش کریں گے۔

اسی طرح ایریا اسٹڈی سینٹرز (ترمیمی) بل 2026ء اور سینٹر فار کلینیکل سائیکالوجی سینٹرز (ترمیمی) بل 2026ء بھی ایوان میں منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ایجنڈے کے مطابق انچارج وزیر برائے کابینہ سیکرٹریٹ نیا پاکستان ہائوسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 2020ء کو منسوخ کرنے سے متعلق بل 2026ء پیش کریں گے۔قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر سید علی ظفر حقِ رسائی معلومات ایکٹ 2017ء میں ترمیم سے متعلق دو بلز، جن میں 2021ء اور 2023ء کے بل شامل ہیں جبکہ پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن ایکٹ 1973ء میں ترمیم سے متعلق بل 2025ء پر کمیٹی کی رپورٹس پیش کریں گے۔

قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی کے چیئرمین سینیٹر ذیشان خانزادہ صنعتی تعلقات ایکٹ 2012ء میں ترمیم سے متعلق بل پر رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید 60 روز کی مہلت کی تحریک پیش کریں گے۔ اسی طرح قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے چیئرمین سینیٹر عطاء الرحمٰن مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء میں والدین کے نان و نفقہ سے متعلق ترمیمی بل پر رپورٹ پیش کرنے کے لیے 60 روز کی توسیع کی تحریک پیش کریں گے۔

اجلاس میں سینیٹر جان محمد وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات کی توجہ بلوچستان کے رخشان اور مکران ڈویژنوں کے رہائشیوں کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز بلاک کیے جانے کے معاملے کی جانب مبذول کرائیں گے۔سینیٹر عابد شیر علی وزیرِ توانائی (پاور ڈویژن) کی توجہ بجلی کے بلوں میں سلیب کی بنیاد پر اضافی نرخوں اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے بلنگ نظام کی جانب مبذول کرائیں گے۔ نوٹس کے مطابق نیپرا کے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت نافذ بلنگ نظام بجلی صارفین پر غیر معمولی مالی بوجھ ڈال رہا ہے۔مزید برآں، کمیٹی برائے قواعدِ ضابطہ و استحقاقات کے چیئرمین سینیٹر سید وقار مہدی مختلف استحقاق تحریکوں پر کمیٹی کی رپورٹس پیش کریں گے، جن میں ڈپٹی کمشنر حب بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر ضلع کیماڑی کراچی کے خلاف پیش کردہ تحریکیں شامل ہیں۔