برطانیہ کا اسرائیلی آبادکاری منصوبے میں حصہ لینے والے افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان

برطانوی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے متنازع ای ون آبادکاری منصوبے کے تحت تعمیراتی کاموں کے لیے بولی دینے والے افراد اور کمپنیوں کو پابندیوں سمیت قانونی اور ساکھ کو نقصان پہنچنے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔شنہوا کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ای ون آبادکاری منصوبے کے لیے ٹینڈرز جاری کرنے کا …

لندن ۔20اکتوبر (اے پی پی):برطانوی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے متنازع ای ون آبادکاری منصوبے کے تحت تعمیراتی کاموں کے لیے بولی دینے والے افراد اور کمپنیوں کو پابندیوں سمیت قانونی اور ساکھ کو نقصان پہنچنے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔شنہوا کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ای ون آبادکاری منصوبے کے لیے ٹینڈرز جاری کرنے کا فیصلہ دو ریاستی حل کے امکانات کے لیے براہ راست خطرہ ہے، جس کی عالمی برادری کی جانب سے بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے کے لیے بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ پیر کو تھی۔انہوں نے خبردار کیا کہ برطانیہ نے غیر قانونی آبادکاریوں کی تعمیر میں ملوث افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے نئے اختیارات متعارف کرائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری اداروں اور افراد کو ای ون منصوبے کے تعمیراتی ٹینڈرز میں حصہ لینے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ انہیں قانونی کارروائی اور ساکھ کو نقصان پہنچنے کے علاوہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت فلسطینیوں کی مسلسل بے دخلی اور غیر قانونی قبضے کو قبول نہیں کرے گی۔