کیوبا کی سابق صدر راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری کے اجرا پر امریکا کی مذمت

کیوبا نے امریکی ریاست فلوریڈا کی جانب سے سابق کیوبن صدر راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری کے اجرا کی مذمت کرتے ہوئے اسے جزیرے کے خلاف امریکی پابندیوں سے جڑی ایک بے مقصد قانونی چال قرار دیا ہے۔شنہوا کے مطابق کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ فوجی جنرل راؤل کاسترو کے خلاف یہ اقدام انتخابی پس منظر …

ہوانا ۔20اکتوبر (اے پی پی):کیوبا نے امریکی ریاست فلوریڈا کی جانب سے سابق کیوبن صدر راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری کے اجرا کی مذمت کرتے ہوئے اسے جزیرے کے خلاف امریکی پابندیوں سے جڑی ایک بے مقصد قانونی چال قرار دیا ہے۔شنہوا کے مطابق کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ فوجی جنرل راؤل کاسترو کے خلاف یہ اقدام انتخابی پس منظر میں میامی میں رچائے گئے ایک افسوس ناک سیاسی تماشے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کی نہ کوئی قانونی بنیاد ہے اور نہ ہی اس کا کوئی عملی جواز ہے۔

انہوں نے وارنٹ گرفتاری کو کیوبا مخالف سیاست دانوں کی جانب سے راؤل کاسترو اور کیوبا کے خلاف سیاسی چال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکی حکومت کی جانب سے کیوبا پر عائد پابندیوں اور وہاں کے عوام کو اجتماعی سزا دینے کے جواز پیش کرنے میں درپیش مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے بھی ایکس پر اپنے بیان میں اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنوبی فلوریڈا کے کیوبا مخالف سیاست دانوں کی جانب سے راؤل کاسترو کے خلاف ایک اور بے نتیجہ کوشش قرار دیا۔ ان کے مطابق اس کے ساتھ کیوبا پر دیگر بے بنیاد الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز ایتھمیئر نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ ریاستی حکام نے 1996 میں دو سویلین طیاروں کو مار گرائے جانے کے واقعے کے سلسلے میں راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لیے ہیں۔ ان پر اقدامِ قتل کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔راؤل کاسترو اس وقت 95 برس کے ہیں۔ 1996 میں طیارے گرائے جانے کے واقعے کے وقت وہ کیوبا کی انقلابی مسلح افواج کے وزیر تھے۔ کیوبا کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی اس کی فضائی حدود میں ہوئی تھی اور اسے اپنے دفاع میں انجام دیا گیا تھا۔