آرمینیا کے دارالحکومت ییریوان میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے فریقین کی 17ویں کانفرنس (سی او پی 17) کے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں عالمی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
آرمینیا میں اقوام متحدہ کی عالمی حیاتیاتی تنوع کانفرنس کے باضابطہ اجلاس شروع

مزید خبریں
یریوان۔20اکتوبر (اے پی پی):آرمینیا کے دارالحکومت ییریوان میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے فریقین کی 17ویں کانفرنس (سی او پی 17) کے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں عالمی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
شنہوا کے مطابق حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کی ایگزیکٹو سیکرٹری آسٹرڈ شوماکر نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری نے کنمنگ مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک پر عملدرآمد میں کچھ پیش رفت کی ہے، تاہم مقررہ اہداف کے حصول کے لیے اقدامات کی رفتار اور دائرہ کار اب بھی ناکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں جوابدہی، باہمی ہم آہنگی اور اقدامات میں تیزی کے ذریعے عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق تمام فریقوں کو اپنے قومی اقدامات اور عالمی اہداف کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کے ساتھ مقامی اور مقامی آبادیوں، خواتین، نوجوانوں، کاروباری اداروں اور مالیاتی اداروں کی شرکت کو بھی وسعت دینا ہوگی۔
کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں آرمینیا کے وزیر ماحولیات ہمبارتسوم ماتے ووسیان کو دو سال کے لیے سی او پی 17 کا صدر منتخب کیا گیا۔’’فطرت کے لیے عملی اقدامات‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ کانفرنس 30 اکتوبر تک جاری رہے گی۔







