مصنوعی ذہانت کو عملی دنیا میں وسعت دینے کے لیے اوپن اے آئی نے انسان نما روبوٹس کی تیاری کے شعبے میں قدم رکھنے کی تیاری شروع کر دی ہے، جنہیں روزمرہ زندگی میں مختلف کام انجام دینے اور لوگوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے بڑا چیلنج …
اوپن اے آئی کا انسان نما روبوٹس تیار کرنے کا منصوبہ، مصنوعی ذہانت کو عملی دنیا میں لانے کی تیاری

مزید خبریں
واشنگٹن۔20اکتوبر (اے پی پی):مصنوعی ذہانت کو عملی دنیا میں وسعت دینے کے لیے اوپن اے آئی نے انسان نما روبوٹس کی تیاری کے شعبے میں قدم رکھنے کی تیاری شروع کر دی ہے، جنہیں روزمرہ زندگی میں مختلف کام انجام دینے اور لوگوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے بڑا چیلنج روبوٹ کا ’’دماغ‘‘ تیار کرنا ہے تاکہ وہ حقیقی دنیا کو سمجھنے، فیصلے کرنے اور کام درست طریقے سے انجام دینے کے قابل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ انسان نما ڈیزائن ایسے ماحول میں کام کرنے کے لیے موزوں ہے جو انسانوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔
اوپن اے آئی نے تاحال روبوٹ کے حتمی ڈیزائن یا ان مخصوص کاموں کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں جو یہ انجام دے گا۔ تاہم، کمپنی مصنوعی ذہانت کے نظام اور حرکت کو کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے لیے ماہرین بھرتی کر رہی ہے، جن کی مدد سے روبوٹس عملی دنیا کے ساتھ تعامل کر سکیں گے۔کمپنی کا مقصد ایسے ہمہ مقصد روبوٹس تیار کرنا ہے جو مختلف نوعیت کے کام انجام دے سکیں۔ طویل المدتی منصوبے کے تحت ایسے ذاتی روبوٹس کی تیاری بھی شامل ہے جو روزمرہ زندگی میں لوگوں کی مدد کر سکیں۔اس مقصد کے حصول کے لیے ایسے نظام تیار کرنا ضروری ہوگا جو اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے اور غیر متوقع صورتحال میں موثر اور محفوظ انداز میں ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔








