اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا تنازعات میں بچوں کے خلاف ڈیجیٹل استحصال کی روک تھام کے لیے اقدامات پر زور

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو مسلح تنازعات میں بچوں کی بھرتی اور ان کے استعمال سمیت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے استحصال سے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ تعلیم اور بچوں کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی …

اقوام متحدہ ۔20اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو مسلح تنازعات میں بچوں کی بھرتی اور ان کے استعمال سمیت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے استحصال سے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ تعلیم اور بچوں کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2832 (2026) منظور کرتے ہوئے بچوں کو دوبارہ بھرتی کرنے، انہیں قتل کرنے اور زخمی کرنے، عصمت دری اور جنسی تشدد کی دیگر اقسام، اغوا اور سکولوں و ہسپتالوں پر حملوں کی بھی مذمت کی۔کونسل نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل پالیسی سازی میں بچوں کی ضروریات کو مرکزی حیثیت دیں، جبکہ مسلح تنازعات میں شامل فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کی بھرتی اور استعمال سمیت ان کے خلاف تمام خلاف ورزیوں کو فوری طور پر ختم کریں۔

قرارداد میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ اپنے خصوصی نمائندے، یونیسف اور متعلقہ اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ مل کر مسلح تنازعات سے متاثرہ بچوں کے تحفظ اور ان کی ڈیجیٹل سلامتی اور خواندگی کو بہتر بنانے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فوائد اور خطرات سے متعلق معلومات اور حاصل ہونے والے تجربات جمع کریں۔قرارداد میں بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے اقدامات کرنے پر بھی زور دیا گیا جن کے ذریعے بچوں کو نقصان دہ آن لائن سرگرمیوں میں استحصال سے بچایا جا سکے، جبکہ لڑکیوں کے خلاف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔