عرب پارلیمنٹ کے سپیکر کی افریقی تنازعات کے حل کے لیے چینی صدر کے پیش کردہ اصولوں کی تعریف

عرب پارلیمنٹ کے سپیکر محمد احمد الیمحی نے افریقہ کے تنازعات سے متاثرہ علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ فریقین کی تعمیری شرکت کے حوالے سےچینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ چار اصولوں کو سراہا ہے۔

قاہرہ۔20اکتوبر (اے پی پی):عرب پارلیمنٹ کے سپیکر محمد احمد الیمحی نے افریقہ کے تنازعات سے متاثرہ علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ فریقین کی تعمیری شرکت کے حوالے سےچینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ چار اصولوں کو سراہا ہے۔ شنہوا کے مطابق عرب پارلیمنٹ کی جانب سے گزشتہ روز جاری بیان میں سپیکر محمد احمد الیمحی نے کہا کہ یہ اصول تنازعات کے سیاسی اور پُرامن حل کو فروغ دینے، امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور گلوبل سائوتھ کے ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم لائحہ عمل فراہم کرتے ہیں اور ان سے علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کے فروغ میں بھی مدد ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اصول بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایک متوازن سوچ کی عکاسی کرتے ہیں اور اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ پائیدار حل طاقت کے استعمال یا کشیدگی میں اضافے کے ذریعے حاصل نہیں کیے جا سکتے بلکہ ان کے لیے تعمیری مکالمے، باہمی افہام و تفہیم، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چار اصول گلوبل سائوتھ کے ممالک کے درمیان تعاون اور یکجہتی کو فروغ دینے، مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوششوں کو یکجا کرنے اور زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کے قیام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

عرب پارلیمنٹ کے سپیکر نے زور دیا کہ افریقی عوام کا اپنے معاملات خود چلانا اور اپنی ترجیحات کا تعین کرنا تنازعات کے حل کی کوششوں کو موثر بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل میں افریقی براعظم کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھا جاتا ہے، تنازعات پر قابو پانے اور ان کے پھیلائو کو روکنے کے لیے قومی اور علاقائی اداروں کے کردار سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور جامع و پائیدار ترقی کے وسیع امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیرپا امن کے قیام کے لیے بحرانوں کے اثرات کو محض محدود کرنے کی بجائے ان کی بنیادی وجوہات کا مقابلہ کرناضروری ہے۔

انہوں نے استحکام کو مستحکم بنانے اور تنازعات کی دوبارہ روک تھام کے لیے ترقیاتی عمل کی حمایت کی غرض سے بین الاقوامی کوششیں تیز کرنے پر بھی زور دیا۔ واضح رہے کہ 13 اکتوبر کو چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں ٹوگو کی وزرا کونسل کے صدر فاؤرے ایسوزیمنا گناسنگبے سے ملاقات کے دوران یہ چار اصول پیش کیے تھے۔ فاؤرے ایسوزیمنا گناسنگبے چین کے سرکاری دورے پر تھے۔ ان چار اصولوں میں تنازعات کے حل میں افریقی قیادت کی پاسداری،انصاف اور عدل کے اصولوں کو برقرار رکھنا،امن کے قیام کے لیے جنگ بندی اور دشمنی کے خاتمے کو فروغ دینا اور بحرانوں کی ظاہری علامات کے ساتھ ساتھ ان کی بنیادی وجوہات کا بھی ازالہ کرنا شامل ہے۔