کوسوو میں جاری کشیدگی علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے، پاکستان

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا ہے کہ کوسوو میں اداروں کے قیام کے حوالے سے پیش رفت کے باوجودمختلف نسلی و سماجی برادریوں کے درمیان جاری کشیدگی اور سربیا کے ساتھ حل طلب مسائل بدستور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں،ان رجحانات کو جڑ پکڑنے سے پہلے روکنا انتہائی ضروری ہے۔

اقوام متحدہ۔22اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا ہے کہ کوسوو میں اداروں کے قیام کے حوالے سے پیش رفت کے باوجودمختلف نسلی و سماجی برادریوں کے درمیان جاری کشیدگی اور سربیا کے ساتھ حل طلب مسائل بدستور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں،ان رجحانات کو جڑ پکڑنے سے پہلے روکنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نےکوسوو میں اقوامِ متحدہ کے عبوری انتظامی مشن برائے کوسوو (UNMIK) کی سرگرمیوں بارے بریفنگ کے بعد کہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم مذہب، عقیدے یا نسلی شناخت کی بنیاد پر کسی بھی قوم یا برادری کے خلاف کیے جانے والے تمام اقدامات کی دوٹوک مذمت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام ایسی سرگرمیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں گے۔ پاکستانی مندوب نے مشترکہ آبی وسائل کا رخ موڑنے سے متعلق بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ سرحد پار آبی وسائل کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ یا محدود جغرافیائی و سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

کوسوو نے کئی برسوں کی نسلی کشیدگی کے بعد فروری 2008 میں سربیا سے آزادی کا اعلان کیا تھا، تاہم سربیا نے اس اعلان کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے بعد سے یورپی یونین مختلف مسائل کے حل کے لیے دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہی ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ یورپی یونین کی سہولت کاری میں ہونے والے مذاکرات میں مسلسل اور بامعنی شرکت نیز بلغراد اور پرسٹینا کے حکام کے درمیان طے پانے والے تمام معاہدوں اور مفاہمتوں پر خلوصِ نیت سے عمل درآمد ہی مسائل پر قابو پانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام یقینی بنانے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے اس سلسلے میں آگے بڑھنے کے لیے دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی لازمی عنصر ہے۔

پاکستانی مندوب نے کوسوو میں مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی، بقائے باہمی اور رواداری کے فروغ کے لیے اقوامِ متحدہ کے عبوری انتظامی مشن (UNMIK) کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سربیا اور کوسوو دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور پاکستان پُرامن، مستحکم اور خوشحال بالقان خطے کی حمایت کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں فریقین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ پُرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے حساس معاملات کو سمجھنے کے جذبے کے تحت مل کر کام کریں اور خطے کے تمام عوام کے سماجی اور معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔