میٹا نے پرائیویسی خدشات پر مصنوعی ذہانت کے معاون نظام میوز میں چیٹ شیئرنگ کا فیچر معطل کر دیا

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے پرائیویسی خدشات پر اپنے مصنوعی ذہانت (AI) کے معاون نظام میوز (Muse) میں گفتگو شیئر کرنے کا فیچر معطل کر دیا ۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق یہ اقدام سائبر سکیورٹی فرم کلاروک (Claroc)کے محققین کی جانب سے اس انکشاف کے بعد کیا گیا کہ شیئر کی گئی ہزاروں چیٹس کے لنکس عوامی انٹرنیٹ ریکارڈز کے ذریعے تلاش کیے جا سکتے تھے جس سے …

واشنگٹن۔22اکتوبر (اے پی پی):امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے پرائیویسی خدشات پر اپنے مصنوعی ذہانت (AI) کے معاون نظام میوز (Muse) میں گفتگو شیئر کرنے کا فیچر معطل کر دیا ۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق یہ اقدام سائبر سکیورٹی فرم کلاروک (Claroc)کے محققین کی جانب سے اس انکشاف کے بعد کیا گیا کہ شیئر کی گئی ہزاروں چیٹس کے لنکس عوامی انٹرنیٹ ریکارڈز کے ذریعے تلاش کیے جا سکتے تھے جس سے حساس ذاتی اور کاروباری معلومات افشا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

سائبر سکیورٹی فرم کلاروک (Claroc) نے غیر فعال ڈی این ایس (DNS) ریکارڈز کے ذریعے 6,800 سے زائد شیئر شدہ لنکس کی نشاندہی کی۔ یہ ریکارڈز ڈومین ناموں سے متعلق تلاش کی سرگرمیوں کو محفوظ کرتے ہیں اور ان کی مدد سے ویب ایڈریسز کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔ محققین نے ان لنکس کے ذریعے کئی سو چیٹس تک رسائی حاصل کی ان میں کمپنیوں کی آمدنی سے متعلق جائزے، قرض کی درخواستیں، بینک فراڈ سے متعلق انتباہات جن میں اکائونٹس کی جزوی تفصیلات موجود تھیں اور ملازمت کے انٹرویوز سے متعلق خفیہ نوٹس جیسی بعض حساس معلومات بھی شامل تھیں ۔ رپورٹ کے مطابق یہ خامی میوز کے یو آر ایل (URL) ڈیزائن میں موجود تھی، جس میں گفتگو کے عنوانات اور اتفاقی طور پر تیار کیے گئے شناختی کوڈ شامل ہوتے تھے۔

جب ان لنکس تک رسائی حاصل کی جاتی تو وہ عوامی ڈیٹا بیسز میں ریکارڈ ہو سکتے تھے، جس سے دوسرے افراد بھی انہیں تلاش کر سکتے تھے، چاہے انہیں یہ لنکس براہِ راست بھیجے نہ گئے ہوں۔ مزید یہ کہ ان لنکس کے ذریعے متعلقہ گفتگوئوں کو اکائونٹ میں سائن اِن کیے بغیر بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز میں ڈیٹا کی پرائیویسی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کرتا ہے، خصوصاً ایسی گفتگوئوں کو شیئر کرنے کے خطرات کو جن میں خفیہ، ذاتی یا کاروباری معلومات موجود ہوں۔

مزید خبریں