پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نکالنے اور مستقبل میں مزید مضبوط بنانے کے لیے عزم اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے،وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نکالنے اور مستقبل میں مزید مضبوط بنانے کے لیے عزم، صبر اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ جمعرات کو یہاں سی ای او سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ​چین، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک نے اپنی اصل طاقت کو پہچان کر اور طویل مدتی پالیسیوں کے ذریعے شاندار ترقی …

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نکالنے اور مستقبل میں مزید مضبوط بنانے کے لیے عزم، صبر اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ جمعرات کو یہاں سی ای او سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ​چین، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک نے اپنی اصل طاقت کو پہچان کر اور طویل مدتی پالیسیوں کے ذریعے شاندار ترقی حاصل کی ہے، ​ترقی کا اصل راز ایک لفظ ’’اعتماد ‘‘میں پوشیدہ ہے، جو ہمیں درست سمت کا تعین اور کامیابی کا لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔

مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ ​کسی بھی شعبہ کو آگے بڑھانے سے پہلے 5 بنیادی امتحانات سے گزرنا ہو گا جن میں مارکیٹ کی طلب، روزگار کے مواقع اور زرمبادلہ کا حصول شامل ہیں۔ مشیر نجکاری نے کہا کہ ​پاکستان کے تین اہم شعبے جو تمام معیار پر پورا اترتے ہیں ان میں زراعت اور ایگری پروسیسنگ، ٹیکسٹائل و ملبوسات اور آئی ٹی و ڈیجیٹل سروسز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اصلاحات کے منصوبوں کی کمی نہیں، اصل مسئلہ ان پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد اور تسلسل کا ہے۔

مشیر نجکاری نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں سستی، قابلِ بھروسہ اور پائیدار توانائی کی فراہمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے،معیشت کی دستاویزی شکل سے ٹیکس نیٹ وسیع ہو گا، موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 17 سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل جاری ہے جن میں 9 پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اور 3 بڑے ایئر پورٹس بھی شامل ہیں۔مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ پاکستان میں بچت کی شرح جی ڈی پی کا 14 فیصد ہے جبکہ بنگلہ دیش میں 34 فیصد اور بھارت میں 30 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر جبکہ اشیا کی برآمدات 30 ارب ڈالر ہیں۔

مشیر نجکاری نے کہا کہ صرف ترسیلاتِ زر پر انحصار کافی نہیں، برآمدات بڑھانے کے لیے اعلیٰ معیاری مصنوعات اور خدمات کی تیاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کے لیے تعلیمی اور تکنیکی تربیت کو انڈسٹری کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمپنیوں کے لیے ترقی کے اگلے مرحلہ کے طور پر بین الاقوامی سطح پر وسعت پانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشینری اور سرمایہ درآمد کیا جا سکتا ہے مگر صنعت کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر مند افرادی قوت خود تیار کرنا پڑتی ہے۔ مشیر نجکاری نے کہا کہ خواتین کے لیے ہنر اور روزگار کے مواقع، معاشی شمولیت کے ساتھ ساتھ ملکی مسابقت کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں معاشی ترقی کے پانچ بنیادی نکات میں بہترین شعبوں پر توجہ، غیر متزلزل اصلاحات، نجی سرمائے کا فروغ، برآمدات میں اضافہ اور ٹیلنٹ کی ترقی شامل ہیں۔

 

مزید خبریں