وفاقی آئینی عدالت،جعلی اسناد پر چار سال ملازمت کرنے والے ٹیچر کے خلاف کارروائی کی تفصیلات طلب، انصر عباس اور سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری

وفاقی آئینی عدالت،جعلی اسناد پر چار سال ملازمت کرنے والے ٹیچر کے خلاف کارروائی کی تفصیلات طلب، انصر عباس اور سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے مبینہ جعلی تعلیمی اسناد پر ملازمت حاصل کرنے والے ٹیچر انصر عباس اور سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ایوب بزدار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے محکمہ تعلیم پنجاب سے انصر عباس کے خلاف کی گئی کارروائی اور اسناد کی جانچ پڑتال سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں۔قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے محکمہ تعلیم پنجاب کی اپیل پر جمعرات کو سماعت کی۔

دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جعلی اسناد کا معاملہ سامنے آنے پر محکمہ تعلیم نے انصر عباس کے خلاف کیا کارروائی کی؟ انہوں نے پوچھا کہ محکمہ تعلیم پنجاب نے جعلی سند کے معاملے پر کیا انکوائری کی اور کیا پنجاب حکومت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ایوب بزدار کے خلاف بھی کوئی کارروائی کی؟قائم مقام چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ انصر عباس چار سال تک ٹیچر کی ملازمت کرتا رہا، اس دوران اس کی اسناد کی جانچ پڑتال کیوں نہ ہوئی؟

انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے لاہور ہائیکورٹ سے انٹرا کورٹ اپیل واپس کیوں لی؟دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اختیار کیا کہ انصر عباس نے ابتدا میں انجینئرنگ کی سند کی بنیاد پر محکمہ تعلیم میں ملازمت حاصل کی اور چار سال بعد استعفیٰ دے کر انٹرمیڈیٹ کی ڈگری پر دوبارہ ملازمت کے لیے درخواست دی۔ محکمانہ جانچ پڑتال کے دوران اس کی اسناد میں جعل سازی سامنے آئی، جس پر محکمہ تعلیم نے اس کی نئی درخواست مسترد کر دی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق انصر عباس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تو عدالت نے اسے ملازمت پر رکھنے کا حکم دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ایوب بزدار نے متعلقہ اتھارٹی کی اجازت کے بغیر لاہور ہائیکورٹ میں دائر انٹرا کورٹ اپیل واپس لے لی تھی۔عدالت نے معاملے کے مختلف پہلوئوں پر وضاحت طلب کرتے ہوئے انصر عباس اور ایوب بزدار کو نوٹس جاری کر دیئے۔

 

مزید خبریں