وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کے حل، کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے متعلقہ وزارتوں، محکموں اور نجی شعبے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اس ضمن میں برآمدات کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات پر کام جاری ہے۔
حکومت برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کے حل، کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کےلئے متعلقہ وزارتوں، محکموں اور نجی شعبے کے ساتھ رابطے میں ہے، جام کمال خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کے حل، کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے متعلقہ وزارتوں، محکموں اور نجی شعبے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اس ضمن میں برآمدات کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات پر کام جاری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت تجارت میں برآمد کنندگان اور اعلیٰ سرکاری حکام کے ساتھ دوسرے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں پاکستان کی برآمدات کو متاثر کرنے والے مسائل اور ان کے حل کے لیے متعلقہ سرکاری محکموں کی جانب سے کی گئی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی، وزارت تجارت کے سینئر حکام اور متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی جبکہ سرکردہ برآمد کنندگان نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی،توانائی کی لاگت، ٹیکسوں، مالی معاونت، ضابطہ جاتی طریقہ کار، برآمدی سہولیات اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی سمیت اہم امور زیر بحث آئے۔ اس موقع پر گزشتہ اجلاس میں برآمد کنندگان کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل اور متعلقہ سرکاری اداروں کے جوابات پر مشتمل جامع جائزہ پیش کیا گیا جس میں زیر التوا معاملات، پیش رفت اور مزید پالیسی اقدامات کی ضرورت کا تعین کیا گیا۔وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان چین، جنوبی کوریا، ترکیہ، جاپان اور ویتنام سمیت اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ترجیحی تجارتی سہولیات میں بہتری کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ٹیرف رعایتوں میں اضافے کے لیے بات چیت جاری ہے جبکہ جنوبی کوریا کے ساتھ ترجیحی تجارتی انتظامات پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے، دیگر ممالک کے ساتھ روابط سفارتی مشنز، تجارتی دفاتر اور دوطرفہ مشاورت کے ذریعے جاری ہیں۔ترکیہ میں پاکستانی ٹائروں کی برآمدات کو درپیش مسائل کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹائروں کی بعض اقسام کو دوطرفہ ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت رعایتیں حاصل ہیں،برآمد کنندگان سے کہا گیا کہ وہ متعلقہ مصنوعات کی تفصیلات اور ایچ ایس کوڈز فراہم کریں تاکہ باقی ماندہ مسائل ترکیہ کے حکام کے ساتھ اٹھائے جا سکیں۔اجلاس میں صنعتی شعبے کے لیے توانائی کی لاگت بالخصوص گیس لیوی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
شرکا کو بتایا گیا کہ وزارت خزانہ نے متعلقہ سرکاری اداروں اور صنعتی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے جو گیس لیوی کی پالیسی اور اس کے حساب کے طریقہ کار کا جائزہ لے کر ممکنہ بہتری کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔ میٹنگ میں برآمدات میں سہولت فراہم کرنے کی سکیم کے طریقہ کار اور اہلیت کے معیار میں بہتری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے برآمدات میں اضافے کی سکیم کے تحت مراعات بہتر بنانے کی تجویز دی تاکہ کاروباری اداروں کو بین الاقوامی منڈیوں میں فروخت بڑھانے کی ترغیب مل سکے۔برآمد کنندگان نے محکمہ تحفظ نباتات کی جانب سے سرٹیفکیشن فیس اور دستاویزات میں بار بار ترمیم کے اخراجات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ضابطہ جاتی فیسوں کو معقول بنایا جائے تاکہ اداروں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ برآمد کنندگان پر غیر ضروری مالی بوجھ سے بچا جا سکے،
وزارت تجارت اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے،کاروباری ویزوں پر پابندیوں، بیرون ملک سفر سے متعلق ہدایات اور انشورنس کے اخراجات پر بھی بات چیت ہوئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ متعلقہ حکام سفارتی ذرائع سے ان معاملات کے حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جبکہ تصدیق شدہ برآمد کنندگان اور کاروباری نمائندوں کے ویزوں کی کارروائی تیز کرنے کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔لائیو سٹاک اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے مواقع کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ نئی تجاویز کو حکومت کے جاری اقدامات اور متعلقہ وزارتوں اور نجی شعبے کے ساتھ ہونے والی مشاورت سے ہم آہنگ کیا جائے، حکام کو اس شعبے کی ترقی کے لیے موجودہ پالیسی ترجیحات اور نئے مواقع کی بنیاد پر جامع سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت کے حوالے سے اجلاس میں بین الاقوامی وعدوں پر مسلسل عمل درآمد اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا تاکہ پاکستان کی ترجیحی تجارتی منڈیوں تک رسائی محفوظ رکھی جا سکے۔
جام کمال خان نے کہا کہ برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، ضابطہ جاتی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان موثر رابطہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معمولی ضابطہ جاتی اخراجات اور طریقہ کار کی مشکلات بھی مجموعی طور پر برآمدات کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں اس لیے ان معاملات پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔
اجلاس میں سرکردہ برآمد کنندگان سے کہا گیا کہ وہ اپنے مسائل، مجوزہ حل اور حکومت کی جانب سے درکار اقدامات پر مشتمل مختصر تحریری سفارشات پیش کریں جبکہ متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو زیر التوا معاملات کے حل کے لیے تازہ ترین پیش رفت اور متوقع مدت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔وفاقی وزیر جام کمال خان نے سرکردہ برآمد کنندگان کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری رکھنے، کاروباری لاگت کم کرنے، بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور پاکستان کی برآمدات پر مبنی معیشت کو مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔







