فنڈز کی کمی کے باوجود اقوامِ متحدہ کے تابکاری سے متعلق سائنسی ادارے کی اہم خدمات قابلِ تحسین ہیں، پاکستان

فنڈز کی کمی کے باوجود اقوامِ متحدہ کے تابکاری سے متعلق سائنسی ادارے کی اہم خدمات قابلِ تحسین ہیں، پاکستان

اقوام متحدہ۔22اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے تابکاری کے اثرات کا مطالعہ کرنے والی اقوامِ متحدہ کی اہم سائنسی کمیٹی کے انتہائی اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی وسائل کی کمی کے باوجود یہ ادارہ اہم اعداد و شمار فراہم کر رہا ہے جو رکن ممالک کو صحت اور ماحولیات کے تحفظ کے معیارات وضع کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان مشن کے فرسٹ سیکرٹری انصار شاہ نے گزشتہ روزخصوصی سیاسی اور نوآبادیاتی امور سے متعلق جنرل اسمبلی کی فورتھ کمیٹی کے کام پر ہونے والی بحث سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران اقوامِ متحدہ کی سائنسی کمیٹی برائے اثراتِ ایٹمی تابکاری (UNSCEAR) نے ایٹمی تابکاری کی سطح، اس کے اثرات اور خطرات کے بارے میں وسیع معلومات اور آگاہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کی مخلصانہ اور مسلسل کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے رکن ممالک کو Ionizing Radiation سے تحفظ کے لیے بین الاقوامی معیارات مرتب کرنے کی خاطر مضبوط سائنسی بنیاد بھی فراہم کی ہے۔ پاکستانی مندوب نے کمیٹی کے کام کو مزید موثر بنانے کے لیے مناسب، قابلِ پیش گوئی اور پائیدار مالی وسائل کی فراہمی پر زور دیا۔

انہوں نے کمیٹی کی سائنسی خودمختاری، مینڈیٹ اور عالمی سطح پر تابکاری کے تحفظ کے لیے اس کی خدمات کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ پاکستان مشن کے فرسٹ سیکرٹری نے کہا کہ ہماری جانب سے Ionizing Radiation کے خطرات سے تحفظ کے لیے جامع ضابطہ جاتی اقدامات کیے گئے ہیں جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے وضع کردہ حفاظتی اصولوں اور معیارات کے مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کینسر کے علاج کے مراکز میں طبی عملے اور مریضوں کو تابکاری مقدار کی باقاعدگی سے نگرانی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جوہری تنصیبات کے قریب رہنے والی آبادی کو ممکنہ تابکاری سے لاحق خطرات کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے جبکہ جمع کیے گئے اعداد و شمار کو منظم انداز میں محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ ان کا تجزیہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ماننا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کے بارے میں عوامی قبولیت کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی کوششوں میں ایٹمی تابکاری کے مفید پہلوئوں کو بھی اجاگر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سماجی و اقتصادی ترقی اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول میں ایٹمی تابکاری کی خدمات کو نمایاں کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ان خدمات میں صحت، زراعت، صنعت اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال شامل ہے۔ جنرل اسمبلی کی فورتھ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سائنسی کمیٹی کی چیئرپرسن سارہ باتوت نے ادارے کی سرگرمیوں سے متعلق تازہ معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کام پالیسی تجویز کرنا یا حفاظتی معیارات مقرر کرنا نہیں ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کمیٹی کا بنیادی کام دستیاب سائنسی شواہد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا اور ایٹمی تابکاری کے طبی، صحت سے متعلق اور ماحولیاتی اثرات کا مطالعہ کرنا ہے۔ اس وقت سائنسی کمیٹی میں 31 رکن ممالک کی جانب سے نامزد کردہ ماہرین شامل ہیں۔مجوزہ قرارداد میں ان رکن ممالک کی فہرست طلب کیے جانے کے حوالے سے، جنہوں نے سائنسی کمیٹی میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، سارہ باتوت نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ طے شدہ طریقہ کار کے تحت مستقبل میں مزید ممالک کی شرکت پر غور کرے۔

انہوں نے بتایا کہ دو اہم سائنسی جائزوں کی منظوری دی گئی ہے ان میں ایک آیونائزنگ تابکاری اور کینسر سے متعلق epidemiological مطالعات جبکہ دوسرا دورانِ خون کے نظام پر تابکاری کے اثرات سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ عملے کی شدید کمی، محدود مالی و دیگر وسائل اور آپریشنل رکاوٹوں کے باعث سائنسی کام میں تاخیر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں 2027 تک کمیٹی کا تہترواں اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

مزید خبریں