چین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی نے کہا ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور صحت کے شعبوں میں چین کی کامیابیاں قابلِ ذکر ہیں، پاکستان روایتی ادویات کے شعبے میں چین کے تجربے اور ٹیکنالوجی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے تجربات، وسائل اور روایتی طبی علم کا تبادلہ کرنے کا بھی خواہاں ہے۔
پاکستان روایتی ادویات کے شعبے میں چین کے تجربے اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے ،اپنے تجربات، وسائل اور روایتی طبی علم کا تبادلہ کرنے کا خواہاں ہے،پاکستانی سفیر

مزید خبریں
بیجنگ۔22اکتوبر (اے پی پی):چین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی نے کہا ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور صحت کے شعبوں میں چین کی کامیابیاں قابلِ ذکر ہیں، پاکستان روایتی ادویات کے شعبے میں چین کے تجربے اور ٹیکنالوجی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے تجربات، وسائل اور روایتی طبی علم کا تبادلہ کرنے کا بھی خواہاں ہے۔ چائنا اکنامک نیٹ (CEN) کے مطابق یہ بات انہوں نے حال ہی میں بیجنگ میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے روایتی ادویات کے صنعتی اتحاد اور اسلامی تعاون تنظیم کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (COMSTECH۔OIC) کے درمیان روایتی ادویات کی صنعت کے فروغ سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سیمینار میں ایس سی او اور او آئی سی کے رکن ممالک میں روایتی ادویات کی منڈیوں، ادویات کی رجسٹریشن اور ضابطہ جاتی پالیسیوں، تحقیق و ترقی، طبی جانچ، پیداوار اور معیار کے معیارات، بین الاقوامی تعاون اور اس شعبے کو صنعتی سطح پر فروغ دینے کے طریقوں پر توجہ دی گئی۔ سیمینار میں چین، ایران، پرتگال، متحدہ عرب امارات، پاکستان اور ازبکستان سے روایتی ادویات کے 20 سے زائد ماہرین اور محققین نے شرکت کی جبکہ چین کے تحقیقی اداروں، روایتی چینی طب کے ہسپتالوں اور کاروباری اداروں کے 100 سے زiado نمائندے بھی شریک ہوئے۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ یہ فورم ایک موزوں وقت پر منعقد ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب ممالک پائیدار اور قابلِ رسائی طبی سہولیات کے حل تلاش کر رہے ہیں تو روایتی طب تحقیق، جدت، صنعتی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روایتی چینی طب، روایتی یونانی طب اور روایتی عرب طب اس بحث کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ شعبے اس امکان کو ظاہر کرتے ہیں کہ روایتی علم کو جدید سائنسی تحقیق، جدید پیداواری ٹیکنالوجی، معیار کی جانچ کے نظام اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ یکجا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے روایتی ادویات کے شعبے میں چین کے ساتھ تعاون کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر دو منصوبوں کا ذکر کیا جن میں جامعہ کراچی میں پاک چین مرکز برائے روایتی چینی طب اور ننگبو یونیورسٹی میں پاکستان اور ژجیانگ کا مشترکہ تحقیقی مرکز برائے تحقیق و ترقیِ نباتاتی ادویات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم جامعات، تحقیقی اداروں، ہسپتالوں اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں
پاکستانی سفیر نے کہا کہ اب ہمیں مشترکہ تحقیق، ڈاکٹروں اور محققین کی تربیت، علمی تبادلوں، ادویات میں استعمال ہونے والے پودوں اور نباتاتی مرکبات کی سائنسی جانچ اور معیار کی ضمانت رکھنے والی روایتی ادویات کی تیاری کے ذریعے ان ادارہ جاتی انتظامات کو قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان تجاویز کو آگے بڑھانے کے لیے چین، کامسٹیک، ایس سی او کے روایتی ادویات کے صنعتی اتحاد اور دیگر شریک ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعاون کو محض علمی تبادلوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ روایتی ادویات کی پوری پیداواری زنجیر کو اس میں شامل کیا جانا چاہیے جس میں تحقیق، پودوں کی کاشت، سائنسی توثیق، پیداوار، معیار کی ضمانت اور ذمہ دارانہ کمرشلائزیشن شامل ہیں۔







