وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، امن اور ترقی کا دور واپس لاکر صوبہ کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیں گے ،وزیراعظم شہباز شریف کا فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کااظہار کیا ہے کہ وفاقی حکومت، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، خیبر پختونخوا میں خوشیاں ، امن اور ترقی کا دور واپس لاکر صوبہ کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیں گے

پشاور۔ 22 اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کااظہار کیا ہے کہ وفاقی حکومت، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، خیبر پختونخوا میں خوشیاں ، امن اور ترقی کا دور واپس لاکر صوبہ کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو گورنر ہاؤس پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کو فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ خصوصی اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کے امن کیلئے قربانیاں دینے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے۔یہ رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کا صوبہ ہے،آزادی کے وقت اس صوبے نے بڑی اکثریت سے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت خیبر یختونخوا دہشتگردی ، بنیادی عوامی سہولیات کی عدم دستیابی سے بہت متاثر ہے، خیبر پختونخوا کے عوام محرمیوں کا شکار ہیں،ہمیں مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔

اللہ سے دعا ہے کہ صوبے میں امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے۔ انہوں نے پشاور سکول کی چھت گرنے کے واقعہ میں ایک استانی اور بچوں کی المناک وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا کو کہا تھا کہ وہ متاثرہ جگہ کا فوری دورہ کر کے اس سانحے کی مکمل تحقیقات کرائیں۔ وزیراعظم نے صوبہ کی صورتحال کا ذکر کہا کہ چند برسوں میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کی وجہ سے یہ صوبہ بہت متاثر ہے۔ چھ برسوں میں جو حالات پید ا کئے گئے اُس کے بعد امن و امان کو بہت نقصان پہنچا،انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر افواج اور سیکورٹی اداروں نے بہت قربانیاں دے کر خیبر پختونخوا سمیت پاکستان میں دہشت گردی کا قلع قمع کر دیا تھا اور دو ہزار اٹھارہ تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا۔ یہ امن سیکورٹی اداروں سمیت ہماری ما ئوں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار لوگ شہید ہوئے اور کئی سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے کئی سیاسی خاندانوں نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں، کئی گھراجڑ گئے، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں مکمل امن قائم ہوا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قیام امن کے بعد پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا اور تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا ، جس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ہماری سیکورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت ، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئے گئے، اس سے بڑی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی مثال اور نہیں ہو سکتی۔ اسی وجہ سے حالیہ چند برسوں میں دہشت گردی میں پھر اضافہ ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار آسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی، خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبہ ابھی بھی نامکمل ہے، انسداد دہشت گردی محکمے اور پولیس کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبوں نے ملکر خیبر پختونخوا کی مدد کا فیصلہ کیا، تمام صوبوں نے انسداد دہشت گردی کے لئے خیبر پختونخوا کو وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔صوبوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ہے، تمام وزراء اعلی نے فیصلہ کیا کہ وفاق اور صوبوں کے حصے کے فنڈز میں سے ایک فیصد اضافی خیبر پختونخوا کو دئیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ 2010 کے بعد سے خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مد میں آٹھ سو ارب روپے دئیے گئے۔ افسوس کا مقام ہےکہ دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے مزید ابھر کر سامنے آ گئی۔ خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کو تربیت اور جدید اسلحہ اور دیگر آلات نہیں دئیے گئے۔ خیبر پختونخوا سے متعلق یہ انتہائی تکلیف دہ داستان ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے وزرائے اعلی کو یقین دلایا تھا کہ انسداد دہشت کے لئے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، گذشتہ ڈھائی سال میں ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لئے دن رات محنت کی گئی، سیاسی اور عسکری قیادت کی دن رات کوششوں سے ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے، دوستوں کے ساتھ اغیار بھی اقرار کرتے ہیں کہ پاکستان نے معیشت بحال کی۔ وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا ہم خیبرپختونخوا کو مزیدجلتے ہوئے دیکھتے رہتے؟ ہم نے سیاسی کمیٹی بنائی انھوں نے اڑتالیس گھنٹے تک مذاکرات میں بہت محنت کی، کب تک ہم خیبر پختونخوا میں خون ریزی برداشت کرتے رہتے؟وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے انتہائی خراب حالات پر صدر مملکت سے دو بار مشاورت کی۔ انہی وجوہات کی بناء پر خیبر پختونخوا میں سخت فیصلے کرنے پڑے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مشاورتی کونسل وجود میں آ چکی ہے جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں، مشاورتی کونسل میں قابل اور ایماندار لوگ شامل ہیں۔ تیرہ سال سے صوبے کے عوام ترسے ہوئے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں، خیبر پختونخوا کے عوام چاہتے ہیں کہ انھیں بھی بنیادی سہولتیں انکی دہلیز پر میسر ہوں، اس تبدیلی کے مثبت نتائج حاصل کرنا لازمی ہے۔ اللہ کی مدد اور آپ سب کے تعاون سے سیکورٹی سمیت مجموعی حالات بہتر ہونگے۔ وزیراعظم نےخیبر پختونخوا میں کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس پارٹی نے کرپشن کے خاتمے کے نام پر ووٹ لئے وہ خود کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے، خیبر پختونخوا میں کرپشن کی نت نئی کہانیاں سامنے آئیں، خیبر پختونخوا میں پینے کے صاف پانی منصوبے میں ایک سو ارب روپے کی کرپشن ہوئی، کوہستان میگا سیکنڈل میں 37 ارب کی کرپشن سامنے آئی، پلیسر گولڈ پراجیکٹ میں من پسند افراد کو ٹھیکے دئیے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو قدم اٹھایا گیا ،قانون و آئین اِس فیصلے کا اختیار دیتا ہے۔ وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا سے متعلق فیصلے پر تمام حلیف جماعتوں ، صدر آصف علی زرداری اور قائد نواز شریف کا خصوصا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت ، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، خیبر پختونخوا میں خوشیاں ، امن اور ترقی کا دور واپس لائیں گے، خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیں گے۔اس سے قبل گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام امن چاہتے ہیں، فوج، ایف سی اور پولیس نے خیبر پختونخوا میں امن وامان کے قیام کیلئے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، خیبر پختونخوا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے وفاق کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ادارے اگر ایک صفحے پر ہوں تو امن و ترقی کا عمل نہیں روکا جا سکتا، صوبے سے دہشت گردوں، ان کےسہولتکاروں اور مالی معاونت کاروں کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مسائل کے حل کیلئے قابلِ عمل حکمتِ عملی وضع کرنا ہمارا مقصد ہے، خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے لیے وفاق کے تعاون کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایسا ماحول چاہتے ہیں جہاں ہر شہری خود کو محفوظ اور ترقی کے عمل کا حصہ سمجھے، خیبر پختونخوا کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کا مثالی صوبہ بنانا ہے، عوامی تحفظ اور خوشحالی کیلئے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر داخلہ سید محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر امور انجینئیر امیر مقام، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر پاور سردار اویس لغاری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، اعلیٰ عسکری قیادت اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔