انفارمیشن سروسز اکیڈمی (آئی ایس اے) کے زیر انتظام جمعرات کو نیشنل پولیس اکیڈمی، قومی احتساب بیورو (نیب) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اکیڈمی کے افسران کے لیے میڈیا بریفنگ، صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے اور عوام تک معلومات کی فراہمی کے حوالے سے عملی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا
انفارمیشن سروسز اکیڈمی کے زیر انتظام نیشنل پولیس اکیڈمی، نیب اور آئی بی اکیڈمی کے افسران کیلئے میڈیا بریفنگ اور عملی تربیتی ورکشاپ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):انفارمیشن سروسز اکیڈمی (آئی ایس اے) کے زیر انتظام جمعرات کو نیشنل پولیس اکیڈمی، قومی احتساب بیورو (نیب) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اکیڈمی کے افسران کے لیے میڈیا بریفنگ، صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے اور عوام تک معلومات کی فراہمی کے حوالے سے عملی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ڈائریکٹر انفارمیشن سروسز اکیڈمی مہرین لیاقت نے شرکا کو وزارت اطلاعات و نشریات کے امور اور اکیڈمی کی جانب سے پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی کے حوالے سے آگاہ کیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر عدنان اکرم باجوہ نے موثر میڈیا مینجمنٹ کے موضوع پر پریزنٹیشن دیتے ہوئے بتایا کہ افسران پریس بریفنگ کی تیاری کیسے کریں، مشکل سوالات کا موثر انداز میں جواب کیسے دیں اور صحافیوں و عوام تک درست معلومات کیسے پہنچائیں۔انہوں نے دبائو کی صورت حال میں پرسکون رہنے، گفتگو کو بنیادی موضوع تک محدود رکھنے اور واضح، جامع اور مدلل جوابات دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ شرکا کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ صحافیوں کے ساتھ دوستانہ اور پیشہ ورانہ تعلقات برقرار رکھیں اور میڈیا سے گفتگو کے دوران غیر ضروری بحث و تکرار سے گریز کریں۔
ورکشاپ کے دوران انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب اور دیگر سینئر افسران کی پریس کانفرنسز کی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں جن کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ افسران صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے، عوامی خدشات دور کرنے اور موثر ابلاغ کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔تربیتی ورکشاپ کے دوران تین مختلف مراحل پر مشتمل فرضی پریس کانفرنس کی مشق بھی کرائی گئی جس میں مختلف اداروں کے افسران کو مشکل سوالات اور دبائو پر مبنی صورت حال میں جواب دینے کی عملی تربیت فراہم کی گئی۔ایک مشق کے دوران شرکا کو ایک فرضی واقعہ دیا گیا جس میں پولیس اہلکاروں کے خلاف الزامات اور عوامی تنقید میں اضافے کی صورت حال پیش کی گئی۔ افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے محکمے کا موقف واضح کریں، مشکل سوالات کے جوابات دیں اور گفتگو کو حقائق تک محدود رکھیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے کرائم و پارلیمانی رپورٹر رائے ضیاء الرحمٰن، کورٹ رپورٹر عثمان ضیاء، سینئر اردو رپورٹر تبسم گل اور صحافی عروج مریم نے اس مشق میں معاونت کی۔
انہوں نے صحافیوں کا کردار ادا کرتے ہوئے افسران سے مشکل سوالات کیے اور حقیقی پریس کانفرنس جیسا ماحول فراہم کیا۔ہر مرحلے کے بعد مبصرین نے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور ان کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان پہلوئوں کی نشاندہی بھی کی جن میں مزید بہتری کی ضرورت تھی۔ شرکا کو واضح جوابات دینے، اعتماد برقرار رکھنے اور دبائو میں موثر انداز سے بات چیت کرنے کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی گئی۔سرکاری و پولیس افسران کی جانب سے ’’پریس بریفنگ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل ثمینہ فرزین سمیت متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ورکشاپ کا مقصد سرکاری افسران کی ابلاغی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، صحافیوں کے ساتھ پیشہ ورانہ روابط کو مضبوط کرنا اور عوام تک معلومات کی ذمہ دارانہ، درست اور موثر فراہمی کو فروغ دینا تھا۔








