بحریہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام یوتھ انٹرپرینیورشپ سمٹ، نمائش اور ایوارڈز 2026 اختتام پذیر

بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں تین روزہ یس پاکستان: ینگ سی ای اوز، کاروباری افراد اور جدت طرازوں کی کانفرنس، نمائش اور ایوارڈز 2026 اختتام پذیر ہو گئے جس میں نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ، جدت طرازی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے تعلیمی اداروں

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں تین روزہ یس پاکستان: ینگ سی ای اوز، کاروباری افراد اور جدت طرازوں کی کانفرنس، نمائش اور ایوارڈز 2026 اختتام پذیر ہو گئے جس میں نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ، جدت طرازی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے تعلیمی اداروں، صنعت اور مالیاتی شعبے کے درمیان تعاون کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری اور چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے، جدت طرازانہ سوچ اپنانے اور اپنے کاروباری منصوبوں کو عملی شکل دینے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں، صنعت، حکومت اور نوجوان کاروباری افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے والی ایسی تقریبات کا باقاعدگی سے انعقاد ہونا چاہیے تاکہ کاروباری صلاحیتوں کو فروغ اور ملکی معیشت کو تقویت مل سکے۔ کانفرنس کے اختتامی روز ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین اور کاروباری انکیوبیشن مراکز سے متعلق کمیشن کی ٹاسک فورس کے کنوینر پروفیسر ڈاکٹر جاوید لغاری نے کلیدی خطاب کیا۔

ان کے خطاب کا موضوع ایک کامیاب بانی کی طرح سوچنے، قیادت کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیتیں تھا۔ انہوں نے کاروباری مواقع کی نشاندہی، تزویراتی منصوبہ بندی، موثر قیادت اور جدید حل تیار کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ یس پاکستان کے بانی مرتضیٰ نور نے تین روزہ سرگرمیوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں میں کاروباری رجحان کو فروغ دینا، جامعات اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط کرنا، نئے کاروباری منصوبوں کو سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنمائوں سے جوڑنا اور کاروباری انکیوبیشن کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ پروگرام میں کاروباری تربیتی ورکشاپس، نئے کاروباری منصوبوں کی پیشکش، قیادت سے متعلق مکالمے، مباحثے، جدت طرازی کی نمائش اور ایوارڈز کی تقریب شامل تھی۔ تقریب کے دوران ایک بین النسلی مکالمے میں طحہٰ ساوار، ڈاکٹر اویس محمود، ٹینجنٹ ٹیک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بحریہ یونیورسٹی کی سابق طلبہ انجمن کے صدر وسیم ارشاد اور ٹیکما لیبز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ابراہیم سعید نے شرکت کی۔

مقررین نے کاروباری شعبے کو درپیش چیلنجز، نئے مواقع، رہنمائی اور تجربہ کار کاروباری شخصیات کے نوجوانوں کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ ایک اور اہم نشست میں آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان راولپنڈی کے چیف منیجر رضوان شمسی، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے رکن برائے تحقیق و ترقی پروفیسر ڈاکٹر حبیب بخاری، سماجی کاروباری شخصیت و ماہر تعلیم ڈاکٹر افشین ذیشان، ادارہ برائے تحفظ دانشورانہ ملکیت پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر حافظ عزیز الرحمٰن اور ایئر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایئر مارشل (ر) عبدالمعید خان نے شرکت کی۔ نشست میں کاروباری منصوبوں کے لیے مالی وسائل تک رسائی، تحقیقی نتائج کو تجارتی مقاصد کے لیے بروئے کار لانے، دانشورانہ ملکیت کے تحفظ اور جامعات، صنعت اور مالیاتی اداروں کے درمیان اشتراک کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ یس پاکستان 2026ء کی نمائش میں 30 سے زائد سٹالز قائم کیے گئے، جہاں جدید خیالات، مصنوعات، منصوبوں اور کاروباری سرگرمیوں کو پیش کیا گیا۔ گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے جامعات اور تعلیمی اداروں نے شرکت کی۔

ایئر یونیورسٹی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، اردو یونیورسٹی اور دیگر اداروں کی شرکت سے نوجوان کاروباری افراد کو روابط بڑھانے، تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے مواقع میسر آئے۔تین روزہ کانفرنس کے دوران طلبہ اور نوجوان کاروباری افراد کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے، کاروباری خیالات پیش کرنے اور صنعت سے وابستہ ماہرین کے تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ اختتامی تقریب میں نمایاں کاروباری کامیابیوں کے اعتراف میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے، یادگاری تحائف پیش کیے گئے اور اختتامی کلمات ادا کیے گئے۔

 

مزید خبریں