مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے بجبہاڑہ میں 22 اکتوبر 1993 کو ہونے والے قتل عام کے 33 سال بعد بھی انصاف اور احتساب کا مطالبہ پورا نہیں ہو سکا
بجبہاڑہ قتل عام: 33 سال بعد بھی کشمیری متاثرین کے اہل خانہ انصاف کے منتظر

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے بجبہاڑہ میں 22 اکتوبر 1993 کو ہونے والے قتل عام کے 33 سال بعد بھی انصاف اور احتساب کا مطالبہ پورا نہیں ہو سکا۔ بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے درجنوں مظاہرین کے اہل خانہ آج بھی اپنے پیاروں کے لیے انصاف کے منتظر ہیں۔ 22 اکتوبر، 1993 جمعہ کے روز نماز کے بعد مبینہ طور پر 10 ہزار سے 15 ہزار افراد نے جامع مسجد بجبہاڑہ سے سری نگر-جموں قومی شاہراہ کی جانب مارچ کیا ۔ وہ سری نگر میں حضرت بل درگاہ کے محاصرے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جہاں اطلاعات کے مطابق اکتوبر کے وسط سے لوگوں نے پناہ لے رکھی تھی۔واقعے سے متعلق بیانات کے مطابق ڈپٹی کمانڈنٹ جے کے رادولا کی سربراہی میں بارڈر سکیورٹی فورس کی 74ویں بٹالین کے اہلکاروں نے گوری وان کے مقام پر مظاہرین کو تین اطراف سے گھیر کر فائرنگ کی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس واقعے میں کم از کم 51 افراد کی ہلاکت اور 200 سے زائد کے زخمی ہونے کا اندراج کیا جبکہ مقامی ذرائع اور بعد کی گنتی کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 40 سے 43 کے درمیان تھی۔ اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 25 طلبہ بھی شامل تھے، جن میں سے بیشتر نوعمر تھے۔
جاں بحق افراد میں 12 سالہ افروز احمد زرگر، 14 سالہ محمد اشرف زرگر، 15 سالہ الطاف حسین شیخ، 17 سالہ عبدال رشید وید اور 18 سالہ جاوید احمد وازہ شامل تھے۔قتل عام کے عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق شاہراہ پر لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور زندہ بچ جانے والے افراد گولیوں سے بچنے کے لیے بھاگ رہے تھے۔ غلام قادر رہ بھی ان افراد میں شامل تھے جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ہلاکتوں کے اس منظر سے رینگ کر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔مجسٹریٹ کی جانب سے کی گئی انکوائری میں مبینہ طور پر فائرنگ کو ’’بلااشتعال‘‘ اور ’’دانستہ اور منظم منصوبہ بندی کے تحت‘‘ قرار دیا گیا۔ واقعے کے سلسلے میں بی ایس ایف کے 13 اہلکاروں پر الزامات عائد کیے گئے، تاہم فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق تمام اہلکار بری ہوگئے۔بجبہاڑہ میں مزارِ شہداء آج بھی متاثرین کی یادگار کے طور پر موجود ہے، جبکہ ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ بدستور برقرار ہے۔یہ قتل عام 1989 سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے وسیع تر تناظر میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے اس خطے میں ماورائے عدالت ہلاکتوں، دورانِ حراست اموات اور جبری گمشدگیوں کے الزامات کو اپنی دستاویزات میں شامل کیا ہے۔او ایچ سی ایچ آر کی 2018 اور 2019 میں شائع ہونے والی رپورٹس میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ غیر قانونی ہلاکتوں اور احتساب کے فقدان پر تشویش ظاہر کی گئی، جن میں آرمڈ فورسز (اسپیشل پاورز) ایکٹ (AFSPA) سے متعلق معاملات بھی شامل تھے۔کشمیری حقوق کی تنظیموں کے مطابق تحریک کے آغاز سے اب تک مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 96 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دورانِ حراست ہلاکتوں اور مبینہ جعلی مقابلوں میں ہونے والی اموات کے ہزاروں واقعات بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔ جبری گمشدگیوں کے بارے میں اندازے 8 ہزار سے 10 ہزار کے درمیان ہیں۔2019 کے بعد بھی دورانِ حراست اموات اور مبینہ جعلی مقابلوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں جبکہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کے مطالبات تاحال پورے نہیں ہوئے۔بجبہاڑہ میں ہونے والی ہلاکتوں سے لے کر بعد کے برسوں میں سامنے آنے والی مبینہ خلاف ورزیوں تک، جواب دہی کا معاملہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق جاری تشویش کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے۔








