خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی بہادری، ہمدردی اور استقامت آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، انتہائی گہرے صدمات کے باوجود وہ اپنے اصولوں اور پاکستان کے عوام پر اپنے یقین کے ساتھ ثابت قدم رہیں
مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی بہادری، ہمدردی اور استقامت آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کا بیگم نصرت بھٹو کی 15 ویں برسی پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی بہادری، ہمدردی اور استقامت آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، انتہائی گہرے صدمات کے باوجود وہ اپنے اصولوں اور پاکستان کے عوام پر اپنے یقین کے ساتھ ثابت قدم رہیں۔ایوان صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق بیگم نصرت بھٹو کی 15 ویں برسی پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اپنی پیاری نانی بیگم نصرت بھٹو کی 15 ویں برسی کے موقع پر میں انہیں محبت، فخر اور جدائی کے گہرے احساسات کے ساتھ یاد کر رہی ہوں، وہ مادر جمہوریت کے نام سے جانی جاتی تھیں، میرے لیے وہ ایک ایسی ہستی بھی تھیں جن کی بہادری، ہمدردی اور استقامت آج بھی میرے لیے مشعل راہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری نانی کو زندگی میں ایسے صدمے برداشت کرنا پڑے جن کا کسی ماں کو متحمل نہیں ہونا چاہئے، انہوں نے اپنے شریک حیات شہید ذوالفقار علی بھٹو، اپنے بیٹوں شہید میر مرتضیٰ بھٹو اور شہید شاہنواز بھٹو اور اپنی پیاری بیٹی اور میری والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو کھو دیا۔ یہ صدمات انتہائی گہرے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے اصولوں اور پاکستان کے عوام پر اپنے یقین کے ساتھ ثابت قدم رہیں۔ ان کی زندگی نے ہمیں سکھایا کہ بہادری کا مطلب درد کا نہ ہونا نہیں بلکہ درد اور مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیگم نصرت بھٹو نے ملکی تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں قائدانہ کردار ادا کیا۔
انہوں نے فوجی حکومت کے دور میں بارہا گرفتاریوں، نظربندی اور جسمانی تشدد کا سامنا کیا، 16 دسمبر 1977ء کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پولیس کے لاٹھی چارج کے دوران وہ زخمی ہوئیں، اس کے باوجود انہیں خاموش نہیں کرایا جا سکا۔ انہوں نے اس وقت بھی عوام کا ساتھ دیا جب ایسا کرنے کی بھاری ذاتی قیمت چکانا پڑی۔آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی بہادری اس بات سے بھی جھلکتی تھی کہ وہ میری والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرتی رہیں جنہوں نے آگے چل کر پاکستان کی قیادت سنبھالی۔ ان دونوں نے مل کر یہ ثابت کیا کہ خواتین تاریخ کا رخ بدل سکتی ہیں، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہیں اور عوامی زندگی میں اعلیٰ ترین ذمہ داریاں سنبھال سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے لیے اپنی نانی کو یاد کرنا نہ صرف محبت کا ایک ذاتی اظہار ہے بلکہ اس ذمہ داری کا احساس بھی ہے جو ان کی چھوڑی ہوئی میراث کے ساتھ وابستہ ہے۔ ان کی زندگی کی مثال پاکستان کی نوجوان خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے، میں چاہتی ہوں کہ ہر لڑکی چاہے وہ کسی گائوں، قصبے یا بڑے شہر میں رہتی ہو، یہ جانتی ہو کہ اس کے خواب اور خواہشات اہم ہیں، وہ تعلیم کے حصول، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے، اعتماد کے ساتھ اپنی بات کہنے اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا حق رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی لڑکی کو محض اس لیے یہ باور نہیں کرایا جانا چاہیے کہ وہ لڑکی ہے اور اس کے عزائم اس کی پہنچ سے باہر ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری نانی کو ہم سے بچھڑے پندرہ برس گزر چکے ہیں لیکن وقت گزرنے کے باوجود ہمارے خاندان کے لیے ان کی اہمیت اور ملک کے لیے ان کی زندگی کے پیغام میں کوئی کمی نہیں آئی، مجھے ان کی کمی محسوس ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے مجھے اپنی والدہ کی جدائی کا احساس ہوتا ہے۔ ان کی عدم موجودگی میرے لیے ایک گہرا ذاتی دکھ ہے، لیکن ان اقدار سے مجھے حوصلہ ملتا ہے جن پر وہ خود کاربند رہیں اور اس مثال سے رہنمائی حاصل ہوتی ہے جو انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑی۔آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ میری نانی کی میراث ان خواتین کی بہادری میں زندہ ہے جو اپنے نظریات کے لیے کھڑی ہوتی ہیں، ان بچیوں میں زندہ ہے جو مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھتی ہیں اور ہر اس شخص میں زندہ ہے جو ایسے پاکستان کی تعمیر کے لیے کوشاں ہے جہاں لوگ آزادی، مواقع اور عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری پیاری نانی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی زندگی ہمیں ہمیشہ رہنمائی فراہم کرتی رہے اور ہمارے لیے مشعل راہ بنی رہے۔







